ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو کے یلہنکا میں مکانات کی مسماری کے 128 دن بعد بھی بازآبادکاری نہ ہونے پر متاثرین کا احتجاج، 12 مئی سے غیر معینہ احتجاجی دھرنے کا اعلان

بنگلورو کے یلہنکا میں مکانات کی مسماری کے 128 دن بعد بھی بازآبادکاری نہ ہونے پر متاثرین کا احتجاج، 12 مئی سے غیر معینہ احتجاجی دھرنے کا اعلان

Sat, 02 May 2026 12:25:48    S O News

بنگلورو، 2 مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)بنگلورو شمالی تعلقہ کے یلہنکا علاقے میں واقع کوگیلو لے آؤٹ کی فقیر کالونی اور وسیم لے آؤٹ (مہانایک امبیڈکر نگر) کے غریب مکینوں کے گھروں کو 20 دسمبر 2025 کی صبح مبینہ طور پر بغیر کسی پیشگی اطلاع اور قانونی نوٹس کے بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیے جانے کے بعد 128 دن کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم تاحال متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔

کوگیلو لے آؤٹ سلم مکینوں کی جدوجہد کمیٹی نے پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ 15 دن کے اندر متاثرہ خاندانوں کو بازآبادکاری فراہم کی جائے، بصورت دیگر غیر معینہ مدت تک شدید احتجاج شروع کیا جائے گا۔

کمیٹی کے مطابق حکومت نے مکانات کی مسماری کے وقت بازآبادکاری کا وعدہ کیا تھا، لیکن تاحال اس پر عمل نہیں کیا گیا، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید سردی، گرمی اور نامساعد حالات میں سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

پریس کانفرنس میں مقررین نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریبوں کے گھروں کو منہدم کرکے انہیں بے گھر کرنا ناانصافی ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت نے نئے سال سے قبل مثبت پیش رفت کا وعدہ کیا تھا، لیکن سیاسی دباؤ کے باعث وہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

مختلف سماجی و عوامی تنظیموں کے نمائندوں نے خبردار کیا کہ اگر 15 دن کے اندر بازآبادکاری نہیں کی گئی تو دن رات جاری رہنے والا دھرنا شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 12 مئی سے مسلسل احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

متاثرہ افراد کے نمائندوں نے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ سے وہ بنیادی سہولیات کے بغیر سخت موسمی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یا تو فوری طور پر متبادل رہائش فراہم کی جائے یا موجودہ مقام پر زمین کے حقوق دیے جائیں تاکہ وہ خود اپنے مکانات تعمیر کر سکیں۔

سماجی کارکنان نے کہا کہ شہروں کی ترقی میں حصہ ڈالنے والے محنت کش طبقات کو باعزت رہائش فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی اور ریاست بھر کی تنظیمیں اس تحریک میں شامل ہوں گی۔
 


Share: