کاروار 25 اپریل (ایس او نیوز): ضلع اتر کنڑا کے منڈگوڈ قصبے میں ایک ہوٹل کے اندر پیش آئے سنسنی خیز واقعے میں ایک شخص کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ واردات منڈگوڈ بس اسٹینڈ کے سامنے واقع امبیکا ہوٹل میں پیش آئی، جہاں رات کے کھانے کے لیے آئے ایک نوجوان کو نشانہ بنایا گیا۔ اس تعلق سے خبر ملی ہے کہ پولس نے قتل کی واردات کے سات آٹھ گھنٹوں میں ہی دو لوگوں کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور پوچھ تاچھ جاری ہے، البتہ ضلع کے ایس پی سے پوچھے جانے پر ایس پی نے صرف اتنا ہی کہا ہے کہ چھان بین جاری ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت 'ضمیر احمد درگا والے' کے طور پر کی گئی ہے، جو گزشتہ شب تقریباً 11 بجے اپنے ایک دوست کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھانے آیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ضمیر نے اپنے دوست کو سگریٹ لانے کے لیے باہر بھیجا تھا، اسی دوران چار سے پانچ نامعلوم حملہ آور اچانک ہوٹل میں داخل ہوئے اور ضمیر پر حملہ کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے ضمیر کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر ڈالا، جس کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے ہوٹل کے کچن کی طرف بھاگا۔ تاہم حملہ آوروں نے اس کا پیچھا کرتے ہوئے اسے دبوچ لیا اور تیز دھار ہتھیار سے اس کی گردن پر وار کر کے اسے موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ہوٹل کے مالک نے واقعہ دیکھ کر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد منڈگوڈ پولیس موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھا کرنا شروع کیا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
قتل کی خبر پھیلتے ہی آدھی رات کے قریب بس اسٹینڈ کے اطراف سینکڑوں افراد جمع ہوگئے، جس کے باعث پولیس کو حالات پر قابو پانے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل بھی ضمیر احمد کو اغوا کیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے اس کی رہائی کے لیے 30 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت منڈگوڈ پولیس نے فلمی انداز میں کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔ موجودہ قتل کی واردات کو اسی پرانے معاملے سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم پولیس نے ابھی تک کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

ایس پی کا منڈگوڈ کا دورہ
اتر کنڑا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن ایم این نے سرسی کی ڈی ایس پی گیتا پاٹل کے ہمراہ ہفتہ کو منڈگوڈ کا دورہ کیا، جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور تفتیشی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایس پی نے بتایا کہ ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقتول ضمیر کے خلاف سٹے بازی سمیت کل پانچ مقدمات پہلے سے درج تھے۔
حراست میں لینے کی خبروں کی تصدیق نہیں
اس دوران دو لوگوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ایس پی نے اس کی تصدیق کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش جاری ہے اور مناسب وقت پر تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا پولیس کو اس معاملے میں کوئی ٹھوس سراغ ملا ہے یا نہیں۔
ایم ایل اے کی مذمت
یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار، جن کے حلقہ میں منڈگوڈ شامل ہے، نے موقع پر پہنچ کر واقعے کی شدید مذمت کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسے سنگین اور ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس علاقے میں اس طرح کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ایس پی سے بات کی ہے اور تمام ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے فرار حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے اور واقعے کی مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے۔