بنگلورو 6؍ستمبر (ایس او نیوز) شمالی کینرا کے ایم پی اننت کمار ہیگڈے کو مودی سرکار میں وزارت کا قلمدان دئے جانے پر انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن کی جانب سے سخت اعتراض ظاہر کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال اپنی ماں کے علاج میں تاخیر کیے جانے کے نام پر اننت کمار نے سرسی کے اسپتال میں ہنگامہ کھڑا کیا تھا اور وہاں کے ڈاکٹروں اور عملے پر غنڈوں کی طرح چڑھائی کردی تھی۔اسی اننت کمار کواب مودی سرکار کی طرف سے نوازے جانے پر انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن کے نیشنل صدر ڈاکٹر کے کے اگروال نے وزیراعظم نریندر مودی کو کھلا لکھتے ہوئے اپنا اعتراض جتایا ہے۔اس خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرو ں پر حملے کی پوری طرح تحقیقات کروانے کے بجائے اننت کمار کو مرکزی کابینہ میں شامل کرکے انعام سے نوازا گیا ہے، جو کہ پوری ڈاکٹری برادری کے لئے تذلیل کا سبب ہے۔ اور اس طرح ایک غلط پیغام دیاگیا ہے۔
مسٹر اگروال نے وزیر اعظم نریندر مودی کا وہ بیان بھی اپنے خط میں شامل کیا ہے جس میں وزیر اعظم نے ڈاکٹروں پر ہونے والے حملوں پر ناراضی جتائی تھی ، اور اس کے ساتھ اننت کمار کے حملے کی ویڈیو کلپ بھی منسلک کرتے ہوئے پوچھاہے کہ اننت کمار کو کیسے وزارت کا قلمدان دیا جاسکتا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ معافی مانگنے کی تہذیب ہمیں ویدوں میں سکھائی گئی ہے، اس لئے 3لاکھ سے زیادہ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ حملے کے بعد اننت کمارکی طرف سے فوری طور پر معافی مانگی جائے گی ۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس کی بجائے انہیں اسکل ڈیولپمنٹ کی وزارت سونپتے ہوئے سماج کو ایک اور غلط پیغام دیا گیا ہے۔یعنی اس وزارت کے ذریعے کاروباریوں کو یہ ہنر (skill)سکھایا جائے گا کہ "کس طرح تشدد میں حصہ لینا چاہیے اور پھر معافی بھی نہیں مانگنی چاہیے؟"