بھٹکل، 13 مئی (ایس او نیوز) : ساحلی کرناٹک کے مختلف شہروں، خصوصاً مینگلور، اُڈپی اور کاروار میں گزشتہ دو دنوں کے دوران شدید گرمی کے بعد رات کے اوقات میں ہونے والی بارشوں کی خبروں کے بیچ بھٹکل میں جاری نیشنل ہائی وے فورلین منصوبے کے کاموں میں اچانک نمایاں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ مانسون کی آمد قریب آتے ہی انتظامیہ اور متعلقہ ایجنسیوں نے تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے تاکہ مانسون سے قبل اہم حصوں کا کام مکمل کیا جاسکے۔
اس وقت ہائی وے کا کام شہر کے انتہائی مصروف اور مرکزی علاقوں میں جاری ہے۔ بالخصوص رنگین کٹہ سے شمس الدین سرکل اور نور مسجد کے سامنے سڑک کی کھدائی، ڈرینیج لائن بچھانے اور سڑک کی مرمت کے کام بیک وقت چل رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے سبب قومی شاہراہ پر ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہورہا ہے اور روزانہ ہزاروں گاڑیوں کی آمد و رفت میں شدید دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں جبکہ پیدل چلنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل یعنی پیر کو بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر نے نیشنل ہائی وے حکام اور تعمیراتی کمپنی آئی آر بی کے نمائندوں کے ساتھ جائزہ میٹنگ منعقد کی تھی، جس میں واضح ہدایت دی گئی کہ مانسون شروع ہونے سے قبل شہر کے اہم حصوں میں جاری کام ہر صورت مکمل کیا جائے۔ اس ہدایت کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے اور بتایا جارہا ہے کہ پچھلے دو دنوں سے شہر عین قلب میں چوبیس گھنٹے مسلسل کام جاری رکھا گیا ہے۔
فی الحال سڑک کے درمیان بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے بڑے اور چوڑے پائپ بچھائے جارہے ہیں، جبکہ دوسری جانب تارکول بچھانے اور سڑک کو ہموار کرنے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کام کی رفتار میں اضافہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے سبب عام شہریوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔

دوسری جانب عوامی حلقوں میں اب بھی سب سے بڑا سوال سروس روڈ کی تعمیر کو لے کر اٹھایا جارہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے فورلین منصوبے کے تحت مرکزی شاہراہ پر تو کام تیزی سے جاری ہے، مگر متبادل سروس روڈ کی تعمیر ابھی تک شروع نہیں کی گئی۔ ایسے میں اگر مانسون سے قبل مرکزی ہائی وے کا کچھ حصہ مکمل بھی ہوجاتا ہے تو بارش کے دوران مقامی ٹریفک، دکانداروں اور رہائشی علاقوں کے لئے متبادل راستے کا مسئلہ بدستور برقرار رہے گا۔
عوام کا کہنا ہے کہ اگر بارش کے دوران مرکزی سڑک پر پانی جمع ہوا یا ٹریفک متاثر ہوئی تو سروس روڈ کی عدم موجودگی شہر کے لئے مزید مشکلات کھڑی کرسکتی ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ مرکزی سڑک کے ساتھ ساتھ سروس روڈ کی تعمیر کو بھی فوری ترجیح دیں تاکہ مانسون کے دوران عوام کو ممکنہ دشواریوں سے بچایا جاسکے۔