بھٹکل، 13 مئی (ایس او نیوز): قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے سہ سالہ انتخابات میں اس بار ایک بڑی اور غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کو ملی، جہاں تنظیم کی انتظامیہ باڈی میں 50 فیصد سے زائد نئے چہروں کو نمائندگی حاصل ہوئی ہے۔ اُترکنڑا ضلع کے سو سالہ قدیم اور سب سے بڑے سماجی ادارے میں اس تبدیلی کو نئی نسل کے بڑھتے اثر و رسوخ اور فعال قیادت کی جانب عوامی رجحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تنظیم کے سینئر اراکین کے مطابق تنظیم کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں نئی اور نوجوان قیادت کو موقع ملا ہے، جس سے امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں تنظیمی سرگرمیوں، عوامی مسائل کے حل اور شہر میں امن و بھائی چارگی کے فروغ کے حوالے سے ایک نئی سوچ اور تازہ انداز دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

12 مئی کو بھٹکل کے مختلف علاقوں میں بیک وقت آٹھ حلقوں کے لئے پولنگ منعقد ہوئی، جس کے ذریعے 24 اراکین کا انتخاب عمل میں آیا، جبکہ سات حلقوں سے 20 اراکین بلا مقابلہ منتخب قرار پائے۔
حلقہ نمبر 14 سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا رہا، جہاں پانچ نشستوں کے لئے 10 امیدوار میدان میں تھے اور ووٹروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ کارگیدے کے الفلاح یوتھ سینٹر میں قائم پولنگ بوتھ پر 232 میں سے 175 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ لیا، اس طرح یہاں 75.43 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔
ادھر حلقہ نمبر 2، جو اس بار 246 اراکین کے ساتھ بھٹکل کا سب سے بڑا حلقہ رہا، کے لئے تنظیم ہال میں پولنگ بوتھ قائم کیا گیا تھا، جہاں 124 اراکین نے ووٹ ڈال کر پانچ نمائندوں کا انتخاب کیا۔

تنظیم دفتر کی عمارت میں مجموعی طور پر پانچ پولنگ بوتھ قائم کئے گئے تھے، جس کے باعث دن بھر انتخابی سرگرمیوں اور اراکین کی آمد و رفت میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ رابطہ سوسائٹی دفتر میں بھی تین اضافی پولنگ بوتھ قائم کئے گئے تھے، تاہم وہاں دیگر مراکز کے مقابلے میں نسبتاً کم بھیڑ دیکھی گئی۔
132 اراکین پر مشتمل تنظیم کی مرکزی انتظامیہ باڈی کے لئے بھٹکل کے مختلف حلقوں سے 44 نمائندوں کا انتخاب کیا گیا، جبکہ اندرونِ ہند اور بیرونِ ہند سے منتخب ہونے والے اراکین کی فہرستیں بھی الیکشن کمشنر کو موصول ہوچکی ہیں۔
الیکشن کمشنر محی الدین الطاف کھروری نے کہا کہ بھٹکل سمیت دیگر علاقوں سے بھی اس بار بڑی تعداد میں نئے اراکین تنظیم کی انتظامیہ کا حصہ بنے ہیں۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے اراکین کی بڑی تعداد نے تنظیم کے اراکین اور عوامی حلقوں میں نیا جوش و خروش پیدا کیا ہے۔
انتخابی عمل کے اختتام پر الطاف کھروری نے کامیاب امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے انتخابات کو منظم اور کمپیوٹرائزڈ انداز میں انجام دینے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ووٹنگ ایپ تیار کرنے والے انجمن انجینئرنگ کالج کے فائنل ایئر کے طلبہ، بالخصوص سید صفوان پیرزادے اور محمد اذان پیشمام، کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
ساتھ ہی انتخابی کارروائی کو خوش اسلوبی اور منظم انداز میں مکمل کرنے کے لئے صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک مسلسل خدمات انجام دینے والی 18 طلبہ پر مشتمل ٹیم کی کاوشوں کو بھی بھرپور سراہا گیا۔