ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں چارسال قبل ہوئی لڑکی کی موت کے بعد ہیسکام دفتر پر حملہ اور پتھرائو کا معاملہ؛ آٹھ لوگوں کو سنائی گئی چھ چھ سال کی سزا

بھٹکل میں چارسال قبل ہوئی لڑکی کی موت کے بعد ہیسکام دفتر پر حملہ اور پتھرائو کا معاملہ؛ آٹھ لوگوں کو سنائی گئی چھ چھ سال کی سزا

Tue, 26 Sep 2017 19:32:09    S.O. News Service

بھٹکل26/ ستمبر (ایس او نیوز) سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے ، سرکاری عملہ پر پتھرائو کرنے اور اُن پر  حملہ کرنے کی کوشش کرنے کے بعد  پولس  کچھ لوگوں کو گرفتار کرتی ہے، پھر  سبھی لوگ کچھ ہی دنوں بعد ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں، ایسے میں لوگ سمجھتے ہیں کہ  معاملہ یہی پر ختم ہوگیا ہے، مگر نہیں ! معاملہ یہاں پر ختم نہیں ہوتا، معاملہ عدالت میں چلتا رہتا ہے اور جیسے ہی عدالت میں  پتھرائو اور حملوں کی بات ثابت ہوجاتی ہے تو پھر وہ پولس کے شکنجے میں آجاتے ہیں، یہی معاملہ آج یہاں بھٹکل میں پیش آیا ہے۔

اطلاع کے مطابق 25/ستمبر 2013 کو ایک 18سالہ لڑکی ناظمہ بنت عبدالجبار انوٹی ،کی بھٹکل جامعہ آباد روڈ پر  بجلی کا تار  چھوجانے سے موت واقع ہوگئی تھی،  محکمہ ہیسکام کی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں ہوئی اس موت پر عوام بھڑک اُٹھے تھے جس میں سے کچھ لوگوں  پر الزام تھا کہ انہوں نے ہیسکام دفتر پہنچ کر ہنگامہ برپا کیا تھا،   ہیسکام دفتر پر پتھرائو کرتے ہوئے  توڑپھوڑ بھی کی تھی، ان لوگوں پر کچھ ہیسکام کے اہلکاروں پر حملہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں پولس نے  آٹھ  لوگوں کو گرفتار بھی  کیا تھا اور بعد میں اُن کی ضمانت پر رہائی بھی ہوئی تھی، لیکن آج اس بات کی اطلاع موصول ہوئی ہے کہ پچھلے چار سالوں تک جو معاملہ عدالت میں زیرسماعت تھا اب  بھٹکل جوڈیشیل میجسٹریٹ فرسٹ کلاس عدالت نے اُن تمام  آٹھ لوگوں کو قصوروار مانتے ہوئے اُنہیں چھ چھ سال کی سزا سنائی ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق عدالت نے جن آٹھ لوگوں کو سزا سنائی ہے، اُن کے نام اس طرح ہیں:  عرفان، ضیاء  ، سرفراز، صفوان،  رحمان،  اسماعیل، نورالاسلام اور علی شیخ

چھ چھ سال سزا سنانے کے ساتھ ساتھ عدالت نے ہر ایک پر 29,000 روپیہ جرمانہ یعنی آٹھ لوگوں کو جملہ 2,32,000  روپیہ جرمانہ بھرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس جرمانے میں سے  1,39,000 روپیہ ہیسکام کے اُن اہلکاروں کو دینے کا حکم دیا  ہے جن پر حملہ کیا گیا تھا، جبکہ بقیہ رقم سرکار کے کھاتے میں جمع کرنے  کا حکم دیا  ہے۔

واقعہ کیا ہے :  25ستمبر 2013 کو رات قریب آٹھ بجے بھٹکل جامعہ آباد روڈ  کے مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی ؒ اکیڈمی کے قریب   ناظمہ بنت عبدالجبار انوٹی (18) فردوس نگر میں واقع اپنے  گھر لوٹ رہی تھی کہ اس کا پیر اچانک پھسل کر پانی میں گرا، جس میں  بجلی کا تار بھی گرا ہوا تھا ، پیر پانی کو لگتے ہی  بجلی نے اپنا کام کیا اور ناظمہ وہیں جائے وقوع پر انتقال کرگئی ۔ علاقہ کے عوام کا الزام تھا  کہ ہیسکام  کی لاپرواہی سے ہی یہ سانحہ پیش آیا ہے۔ ناظمہ کی نعش کو  بھٹکل سرکاری اسپتال لے جایا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے اہل خانہ کے سپرد کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اُس واقعے پر کچھ لوگوں نے ہیبلے میں واقع ہیسکام دفتر پہنچ کر پتھرائو کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی اور کچھ اہلکاروں پر حملہ بھی کیا،  یہ معاملہ اُس وقت سے عدالت میں چل رہا تھا، جبکہ اب جاکر فیصلہ سامنے آیا اور آٹھ لوگوں کو قصور وار قرار دیتے ہوئے چھ چھ سال کی سزا کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

سرکاری وکیل اندرانائک عدالت کے فیصلہ سے مطمئن:  پولس کی طرف سے معاملے کی  پیروی ایڈوکیٹ اندرانائک کررہے تھے، عدالت کے فیصلے پر اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اندرا نائک نے بتایا کہ سرکاری املاک کی توڑپھوڑ اور سرکاری عملہ پر حملہ کو عدالت نے نہایت سنجیدگی سے لیتے ہوئے  زائد سے زائد یعنی چھ چھ سال کی سزا سنائی ہے اور میں عدالت کے اس فیصلے سے بالکل مطمئن ہوں۔

ضلعی ایس پی کی طرف سے مبارکباد :  ہیسکام عملہ اور ہیسکام دفتر پر حملے کے  معاملے کو انجام تک پہنچانے اور حملہ آوروں کو سزا دلانے میں کامیاب ہونے پر  ضلع کے ایس پی وسنت رائو پاٹل نے بھٹکل پولس اور سرکاری وکیل اندرانائک کو مبارکباد پیش کی ہے۔

25/ ستمبر 2013 کو ہوئی لڑکی کی موت کی خبر  اور فوٹوز،اُسی رات ساحل آن لائن پر شائع کی گئی تھی۔ اُس وقت کے شائع شدہ فوٹوز کے لئے یہاں کلک کریں


Share: