دبئی، 13 جون(ایس او نیوز ) متحدہ عرب امارات کی ریاست اُم القوین میں کاروباری اور طبی شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے ام القوین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تھمبے یونیورسٹی اسپتال کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس شراکت داری کا مقصد کاروباری برادری اور مقامی آبادی کو معیاری صحت خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرتے ہوئے ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرنا ہے۔
اس معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ منصوبوں، پیشہ ورانہ مہارت کے تبادلے، خصوصی طبی سہولیات اور چیمبر کے اراکین کے لیے خصوصی فوائد کی فراہمی کے سلسلے میں باہمی تعاون کریں گے۔ اس اقدام کے پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ مقامی معیشت کو آگے بڑھانے والے افراد اور کاروباری طبقے کو بہتر طبی سہولیات میسر ہوں گی تو اس کے مثبت اثرات پوری ریاست پر مرتب ہوں گے۔
مفاہمتی یادداشت پر ام القوین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹر جنرل احمد عبید ابراہیم العلی اور تھمبے ہیلتھ کیئر کے نائب صدر اکبر محی الدین تھمبے نے دستخط کیے۔
اس موقع پر احمد عبید ابراہیم العلی نے کہا کہ چیمبر کے اراکین ان کی تمام سرگرمیوں کا محور ہیں اور ان کی صحت و فلاح و بہبود کاروباری کامیابی جتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق تھمبے یونیورسٹی اسپتال کے ساتھ یہ شراکت داری اراکین اور ان کے اہل خانہ کے لیے قابلِ اعتماد طبی خدمات کو ان کے قریب تر لانے کا ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کا کردار صرف تجارت کو فروغ دینا نہیں بلکہ ام القوین میں مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔
معاہدے کے مطابق دونوں ادارے کاروباری برادری کے لیے خصوصی طبی مراعات کی تشکیل، اقتصادی اور طبی شعبوں میں معلومات و مہارت کے تبادلے اور ریاست میں پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔ دونوں فریقوں نے مستقبل میں مزید ایسے شعبوں کی نشاندہی کرنے کے عزم کا اظہار کیا جہاں باہمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
تھمبے ہیلتھ کیئر کے نائب صدر اکبر محی الدین تھمبے نے کہا کہ صحت مند معاشرے اور مضبوط معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ام القوین چیمبر کے ساتھ تعاون کے ذریعے وہ اپنی طبی مہارت کو براہِ راست ان افراد تک پہنچا سکیں گے جو ریاست کے مستقبل کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری کمیونٹی کی خدمت کے سفر کا آغاز ہے اور آئندہ مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات میں ابھرتے ہوئے اس وسیع تر رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت سرکاری اور نجی ادارے اپنے روایتی شعبوں کی حدود سے آگے بڑھ کر باہمی اشتراک کے ذریعے عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے اور زیادہ مضبوط و پائیدار معاشروں کی تعمیر کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔