نئی دہلی ، 13 جون(ایس او نیوز /ایجنسی) انڈین نیشنل کانگریس نے پیپر لیک، امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، بڑھتی بے روزگاری اور نوجوانوں سے متعلق مسائل کے خلاف ملک گیر مہم کے پہلے مرحلے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ سنیچر کو جاری ایک بیان میں کانگریس کے جنرل سیکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ مہم کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں شروع کی جا رہی ہے۔ مہم کے تحت راہل گاندھی ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ کے بڑے پروگرامز اور کنونشنز سے خطاب کریں گے۔ اس سلسلے کا آغاز ۱۷؍ جون کو کوٹہ سے ہوگا، جبکہ اس کے بعد ۱۰؍ جولائی کو پریاگ راج، ۱۱؍ جولائی کو پٹنہ اور ۱۴؍ جولائی کو نئی دہلی میں پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
کانگریس کے مطابق ان تقریبات میں طلبہ، ملازمت کے خواہشمند نوجوان، تعلیمی ماہرین، نوجوانوں کی تنظیمیں اور امتحانی بے ضابطگیوں یا بھرتی کے عمل میں مبینہ خامیوں سے متاثر افراد شریک ہوں گے۔ پارٹی نے کہا کہ اس مہم کا مقصد ان لاکھوں نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے جو بار بار پیپر لیک ہونے، امتحانی فیسوں میں اضافے، بھرتی کے عمل میں تاخیر اور شفاف نظام کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
کانگریس کے بیان کے مطابق ملک بھر میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونینز یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی)، انڈیا یوتھ کانگریس اور پارٹی کی ریاستی اکائیاں مختلف آؤٹ ریچ پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں سے رابطہ کریں گی۔ ان سرگرمیوں میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دورے، کوچنگ مراکز میں ملاقاتیں، طلبہ سے براہِ راست گفتگو، سوشل میڈیا مہمات اور عوامی اجتماعات شامل ہوں گے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ تحریک سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر نوجوانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گی، جہاں وہ اپنے تجربات بیان کر سکیں اور امتحانی نظام میں بار بار سامنے آنے والی خامیوں کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کر سکیں۔
کانگریس نے اس موقع پر راہل گاندھی کی جانب سے پہلے اٹھائے گئے مطالبات کو بھی دہرایا، جن میں نیٹ یو جی کے نظام میں خامیاں، امتحانی فیسوں کا خاتمہ، پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی شامل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی نوجوانوں کے مسائل پر پارلیمنٹ میں جامع بحث کی بھی خواہاں ہے اور تعلیم، روزگار اور بھرتی کے نظام میں اصلاحات کے لیے قانون سازی کے اقدامات کی حمایت کرے گی۔ کانگریس کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کے حقوق، مستقبل اور روزگار کے مواقع کے تحفظ کو قومی بحث کا حصہ بنانا اور حکومت پر جوابدہی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔