منگلورو 5؍اکتوبر (ایس او نیوز)سورتکل کی نندنی ندی میں اپنے چار دوستوں کے ساتھ تیرنے کے لئے جانے والے مقصود کی پانی میں ڈوبنے سے موت واقع ہوگئی ہے ، مگر والدین کو شبہ ہے کہ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے بلکہ ایک قتل کی واردات ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق پیشے سے ٹیکسی ڈرائیور مقصود(۲۵سال) اپنے چاردوستوں کے ساتھ شام کے وقت ندی میں تیرنے کے لئے گیا ہواتھا۔ جب دیر رات تک وہ واپس نہیں لوٹا تو فکر مندوالدین اور رشتے داروں نے اس کے دوستوں سے اس معاملے میں پوچھ تاچھ کی مگر انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور گمراہ کن باتیں کرتے رہے۔ دوسرے دن پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے پر پولیس نے مقصود کے ان چاروں دوستوں کو اپنی تحویل میں لے کر سخت تفتیش کی تو انہوں نے بتایا کہ مقصود اچھی طرح تیر نا نہیں جانتاتھا پھر بھی وہ گہرے پانی میں نکل گیا اور دوستوں کی طرف سے بچانے کی کوشش کے باوجود وہ ندی میں ڈوب کر لا پتہ ہوگیا ہے۔
پولس نے مقصود کے جن دوستوں کو اپنی تحویل میں لیا ہے، اُن کی شناخت ناگراج (24)، پرساد (19)، ویٹلا کے رہنے والے پرساد (21) اور موہن (26) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
پولیس نے ماہر غوطہ خوروں کی مدد سے ندی میں تلاشی مہم چلائی اور بڑی مشقت اور تاخیر کے ساتھ مقصود کی لاش بر آمد کرلی۔ حالانکہ مقصود کے والدین اسے حادثہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور قتل کی واردات ہی قرار دے رہے ہیں، مگر چونکہ مقصود کے دوستوں سے ابھی سختی کے ساتھ پوچھ تاچھ جاری ہے اس لئے پولیس کوئی فیصلہ کن بات بتانے کے موقف میں نہیں ہے۔
اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مہلوک مقصود کے چاچا ایم کے افتخار نے بتایا کہ منگل صبح 9:30 بجے سے ہی مقصود کا موبائل سوئچ آف آرہا تھا ، ہم نے سوچا کہ ہمیشہ کی طرح وہ شام کو گھر واپس لوٹ آئے گا، لیکن وہ نہیں آیا توہمیں فکر ہونے لگی۔ اس دوران کچھ لوگوں نے بتایا کہ مقصود کچھ لوگ اپنے ساتھ ندی کی طرف لے جاتے ہوئے دیکھا ہے، اس لئے ہمیں شک ہے کہ مقصود کو ندی میں ڈبو کر اُس کا قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے پولس پر زور دیا کہ وہ بنا کسی دبائو کے معاملے کی صحیح تفتیش کرے۔
واقعے کے فوری بعد جائے وقوع پر عوام کثیر تعداد میں جمع ہوگئے، واقعے کی اطلاع ملتے ہی کرائم ڈی سی پی راجیندر، پولس انسپکٹر چلوراج، پی ایس آئی کمارویشرن، پووپّا سمیت کافی اہلکار بھی جائے واردات پر پہنچ گئے اور جائزہ لیا۔ پولس اطراف میں واقع ایک مندر اور ایک ہوٹل کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے بھی واقعے کی جانچ کررہی ہے۔
واقعے کے پس منظر میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس نے سورتکل میں حفاظتی انتظامات بڑھادئے ہیں اور ریزرو پولیس کے دستوں کوبھی طلب کرلیا ہے۔