ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات اسمبلی انتخابات:موت کے سوداگر والی بات کہنا کہیں مودی کی حکمت عملی کا حصہ تو نہیں

گجرات اسمبلی انتخابات:موت کے سوداگر والی بات کہنا کہیں مودی کی حکمت عملی کا حصہ تو نہیں

Sat, 28 Oct 2017 10:24:26    S.O. News Service

نئی دہلی27اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گجرات اسمبلی انتخابات میں تشہیراب آہستہ آہستہ عروج پر پہنچ رہی ہے۔ ہر داؤ پیچ آزمائے جا رہے ہیں۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی بی جے پی کو مودی کے ہی انداز میں گھیر رہے ہیں۔ اب وہ وزیر اعظم مودی کی طرح ہی جملے گڑھ رہے ہیں۔ جی ایس ٹی کو لے کر ان کا’گبر سنگھ ٹیکس‘والا بیان بھی بحث میں ہے۔ وہیں سوشل میڈیامیں اٹھا ’وکاس پاگل ہو گیا‘کاجملہ بھی وہ اسٹیج سے خوب اٹھا رہے ہیں۔ راہل گاندھی براہِ راست اب مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر حملہ کرنا سیکھ گئے نااہیں۔ لیکن جیسا کہ سمجھا جا رہا تھا تشہیر کے فن میں ماہروزیر اعظم نریندر مودی کا اپنے انداز میں آنا باقی ہے اور راہل گاندھی کے بدلے اندازکی تبھی اصلی امتحان ہوگا۔ اس بات کی بحث ہو رہی تھی تبھی پی ایم مودی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے وڈودرا کے ایک بی جے پی کارکن سے دیوالی کے دن ہوئی بات چیت کی آڈیو وائرل کر دی ہے۔وزیر اعظم کا ایک عام کارکن سے براہ راست فون پر بات کرنا ویسے بھی ہندوستانی عام لوگوں کے لئے بڑی بات ہے۔ لیکن وزیر اعظم کی جانب سے یہ آڈیو جاری کرنا تشہیر کی حکمت عملی کا بھی ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ ایک طرف تو جہاں مودی پارٹی کارکن گوپال بھائی کو دیوالی کی مبارکباد دے رہے ہیں اور باتوں ہی باتوں میں وہ ان مسائل کا بھی ذکر کر رہے ہیں جو گجرات کے لحاظ سے انتہائی حساس ہیں۔2007 کے انتخابات میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کا ان پر کیا گیا ’موت کا سوداگر‘ کا بھی پی ایم مودی نے ذکر کیا ہے۔ یہ وہی بیان تھا جس نے کانگریس کو گجرات میں اقتدار سے کوسوں پیچھے دھکیل دیا تھا۔ 2002 کے فسادات کو لے کر کانگریس صدر کی جانب سے دیا گیا یہ بیان پارٹی کے لئے ہمیشہ کے لئے بھاری پڑ گیا۔ پی ایم مودی نے اپنے کارکن سے بات چیت میں کہاکہ کیاایک بھی الیکشن دیکھا ہے آپ نے جس میں جھوٹ نہ پھیلایاہو۔موت کا سوداگر کہا گیا مجھے۔ قاتل ڈاکو، خون میں بھیگی ہاتھ۔ پر عوام سچائی کو جانتی ہے۔ پہلے افواہ کانوں کان پھیلتی تھی اب واٹس اپ پھیلانے میں مدد کرتا ہے۔


Share: