میسورو ، 22/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف خواندگی نہیں بلکہ سماج کے مسائل کا حل پیش کرنا اور فکری و سائنسی شعور اجاگر کرنا ہونا چاہیے۔ اگر تعلیم انسان کو سماجی ذمہ داری کا احساس نہ دلا سکے تو ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔
وہ آج میسورو میں بی سی ایم اسٹوڈنٹس ہاسٹلز کے سابق طلبہ کے پہلے سالانہ اجلاس اور کنڑ راجیوتسوا تقریب سے خطاب کررہے تھے، جہاں انہوں نے دیوراج ارسو ایوارڈ اور ہاونور ایوارڈ بھی تقسیم کیے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لئے مفت تعلیم، رہائش اور خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہی ہاسٹلز سے تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلبہ آج اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آزادی کے وقت ملک میں تعلیم کی شرح صرف 10 تا 12 فیصد تھی، جب کہ آج بڑھ کر 78 فیصد ہوچکی ہے، تاہم اسے 100 فیصد تک لے جانا ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جیسے ہی انسان تعلیم یافتہ ہو، اسے مذہب، ذات پات اور فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر سوچنا چاہیے۔ 850 سال پہلے بسونّا نے ذات اور اندھ وشواس کے خاتمے کی بات کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں کئی مذاہب اور فرقے ہیں اور کوئی بھی مذہب نفرت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مخالفین نے ایک وقت یہ مشہور کیا تھا کہ ان کی کار پر کوّا بیٹھا تو وزیر اعلیٰ کا عہدہ چلا جائے گا اور اسی بنیاد پر میڈیا نے پروپیگنڈہ کیا، مگر حقیقت سامنے آئی کہ وہ اب بھی وزیر اعلیٰ ہیں اور دو سال سے زیادہ مدت مکمل کرچکے ہیں۔اسی طرح پروفیسر روی ورما کمار نے ’’راہو کال‘‘ میں شادی کی مگر آج کامیاب وکیل کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ “یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اندھ وشواس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم مفت فراہم کررہی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سماج کو کچھ لوٹایا جائے اور ترقی میں تعاون کیا جائے۔آج ریاست میں 3,88,000 طلبہ ہاسٹلز میں رہ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں جن میں صرف میسورو میں 6,500 طلبہ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ دیوراج ارسو نے پسماندہ طبقات کو سماجی، تعلیمی اور اقتصادی مضبوطی فراہم کی۔ اسی مقصد کیلئے آج بھی ضمانتی اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں تاکہ سماج کے کمزور طبقات کو معاشی توانائی حاصل ہو۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ محکمہ پسماندہ طبقات کیلئے حکومت پہلے ہی 3,500 کروڑ روپے فراہم کررہی ہے۔
کنڑ راجوتسو کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو کنڑ زبان میں گفتگو کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔ بنگلورو میں کنڑ بولنے والوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، جبکہ سرکاری و عوامی اداروں کو لازمی طور پر کنڑ میں بات کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر زبانیں بھی سیکھیں مگر کنڑ شناخت اور تہذیب کا احترام سب پر لازم ہے۔