بیلگاوی ، 13/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ریاستی حکومت نے بیلگاوی، وجیاپورا اور دھارواڑ سمیت شمالی کرناٹک میں ڈیفنس کوریڈور قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ یہ بات صنعتوں اور بنیادی سہولیات کے وزیر ایم۔بی۔پاٹل نے اسمبلی کے اجلاس میں بتائی۔
اسمبلی میں وقفہ سوالات کے سلسلے کے دوران ہبلی-دھارواڑ کے رکن اسمبلی اروند بیلّد کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ملک کی ایروسپیس اور دفاعی صنعت میں کرناٹک کی 65 فیصد شراکت ہے، اس وجہ سے ریاست کو “ایکو اسپیس” کے میدان میں بھی ملک کا سرِفہرست مرکز تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ ایک وفد نے مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کرکے شمالی کرناٹک میں ڈیفنس کوریڈور کے قیام کی باضابطہ درخواست پیش کی ہے، جس پر مرکز نے مثبت ردِعمل دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ“اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے تمام جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی کو متحد ہوکر تعاون کرنا ہوگا۔
”مسٹر پاٹل نے مزید بتایا کہ دیوَناہلّی (ضلع بنگلورو دیہی) میں قائم کیے جانے والے مجوزہ ایروسپیس پارک کے لیے 13 دیہاتوں کی 1,777 ایکڑ زمین کے حصول کا عمل 6 دسمبر کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اب اس علاقے کو گرین زون قرار دیتے ہوئے “خصوصی زرعی علاقہ” کے طور پر برقرار رکھا جائے گا۔
بیلگاوی ضلع میں نجی کمپنی "ایکس ایس ای زیڈ پرائیویٹ لمیٹڈ" کے ذریعے پہلے ہی ایروسپیس کمپوننٹس کی ایک فعال ایس ای زیڈ قائم ہے، جس کے نتیجے میں اس خطے میں ایروسپیس سازوسامان کی تیاری کے لیے مضبوط ایکو سسٹم وجود میں آچکا ہے۔
وزیر کے مطابق“اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بہت وسیع ہیں۔”اسی کے ساتھ بنگلورو-ممبئی صنعتی راہ داری منصوبہ (بی ایم آئی سی) کے تحت دھارواڑ ضلع میں تقریباً 3,000 ایکڑ علاقہ صنعتی ترقی کے لیے مختص کیا جارہا ہے۔ ایروسپیس سازوسامان کی تیاری کے لیے یہاں تمام بنیادی ڈھانچا اور زمین فراہم کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔
مسٹر ایم۔بی۔پاٹل نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاست کی نئی صنعتی پالیسی کے مطابق، ننجنڈپا کمیٹی کی رپورٹ میں “انتہائی پسماندہ” قرار دیے گئے تعلقوں میں صنعت قائم کرنے والوں کو 3 سے 5 فیصد تک خصوصی اضافی مراعات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔