بھٹکل 19/ستمبر (ایس او نیوز): گلمی کی مسجد حضرت اسماعیل پر پتھراؤ کے واقعے کے بعد مسلم لیڈران نے پولیس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اصل ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے بجائے کم عمر بچوں کو مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی گئی تو بھٹکل میں بڑا احتجاج کیا جائے گا۔
مسجد حضرت اسماعیل کی جانب سے پولیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے لیے بھٹکل ٹاؤن پولیس اسٹیشن پہنچنے والے وفد میں شامل محمد توفیق بیری نے پولیس حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد پر پتھراؤ کرکے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والوں کے خلاف سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے اور ذمہ دار افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد پر پتھراؤ کے الزام میں جمعرات کی صبح دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اسی روز دونوں نے عدالت سے ضمانت حاصل کرلی اور رہا ہوگئے۔ توفیق بیری نے الزام لگایا کہ مسجد پر پتھراؤ کے اصل ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کے بجائے بعض افراد انہیں بچانے کے لیے ایک نئی کہانی پیش کر رہے ہیں اور کم عمر بچوں پر گنیش وسرجن جلوس پر پتھراؤ کرنے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔
ان کے مطابق، سابق ایم ایل اے سنیل نائک اور سنگھ پریوار سے وابستہ کارکنان کی جانب سے سات اور آٹھ سال کے بچوں پر گنیش وسرجن جلوس پر پتھراؤ کرنے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے بھی ان الزامات کی بنیاد پر جوابی مقدمات درج کرنا قابلِ مذمت ہے۔
توفیق بیری نے خاص طور پر کم عمر بچوں کے خلاف جیونائل جسٹس ایکٹ کے تحت کارروائی کی مبینہ کوششوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے بجائے اصل واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جانی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بچوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے انہیں قانونی کارروائی میں الجھایا گیا تو بھٹکل میں زبردست احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے بی جے پی لیڈر سنیل نائک کی جانب سے ضمانت پر رہا ہونے والے دونوں ملزمان کے گھروں پر پہنچ کر ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرنے اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کے بجائے مسجد پر پتھراؤ کے معاملے میں اصل ملزمان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
مسلم لیڈران نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ مسجد پر پتھراؤ کے ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، جبکہ جھوٹے الزامات یا مبینہ طور پر من گھڑت کہانیوں کے ذریعے کم عمر بچوں کو مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔
توفیق بیری نے مزید الزام لگایا کہ گنیش وسرجن جلوس پر پتھراؤ کے حوالے سے مبینہ طور پر جھوٹی کہانی پیش کرکے بھٹکل کا نام بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ثبوت کی بنیاد پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔