ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں آبی وسائل کی مردم شماری مکمل، 14.18 لاکھ زیرِ زمین پانی کے منصوبے درج

کرناٹک میں آبی وسائل کی مردم شماری مکمل، 14.18 لاکھ زیرِ زمین پانی کے منصوبے درج

Mon, 14 Sep 2026 12:21:35    S O News

بنگلورو   ، 14/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک میں ریاست کے آبی وسائل کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے آبپاشی و آبی تحفظ کے منصوبوں کو سائنسی بنیادوں پر مرتب کرنے کے مقصد سے ساتویں چھوٹی آبپاشی مردم شماری اور آبی ذخائر کی دوسری مردم شماری کے تحت فیلڈ سروے کا کام کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا گیا ہے۔ مردم شماری کے دوران ریاست بھر میں 14,18,894 زیرِ زمین پانی کے منصوبے، 77,573 سطحی آبی منصوبے اور 38,960 آبی ذخائر درج کیے گئے ہیں۔ یہ اطلاع چھوٹی آبپاشی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر اجے دھرم سنگھ نے دی۔

مرکزی حکومت کی وزارتِ جل شکتی کی مکمل مالی معاونت سے انجام دی جانے والی اس وسیع مردم شماری کے لیے 2023-24 کو بنیادی سال قرار دیا گیا تھا، جبکہ فیلڈ سروے کا کام اگست 2026 میں مکمل ہوا۔ اس سروے کے دائرے میں ریاست کے 30,671 دیہات، 300 شہری بلدیاتی ادارے اور 7,128 شہری وارڈ شامل کیے گئے۔

مردم شماری کا کام مقررہ مدت میں کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے والے افسران اور ملازمین کی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر اجے دھرم سنگھ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو توصیفی اسناد پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

ڈاکٹر اجے دھرم سنگھ نے کہا کہ ریاست کو خشک سالی، زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے حالات میں آبی وسائل سے متعلق درست اور جامع اعداد و شمار انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ریاست کے کس علاقے میں کتنے آبی ذخائر موجود ہیں، زیرِ زمین اور سطحی پانی کے منصوبوں کی موجودہ صورتحال کیا ہے، اس بارے میں قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہونے سے مستقبل کے آبپاشی اور آبی تحفظ کے منصوبوں کو زیادہ سائنسی اور مقامی ضرورتوں کے مطابق مرتب کیا جاسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ چھوٹی آبپاشی کی مردم شماری کے تحت 2,000 ہیکٹر تک آبپاشی کی صلاحیت رکھنے والے منصوبوں کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں، جبکہ آبی ذخائر کی مردم شماری میں تالابوں، جھیلوں، بندوں اور دیگر آبی وسائل سے متعلق جامع معلومات حاصل کی گئی ہیں۔

وزیر نے واضح کیا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار صرف رپورٹوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ انہیں عملی منصوبہ بندی کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں آبی تحفظ کو ترجیح دینے، تالابوں اور جھیلوں کی تجدید و بحالی، زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرپائی، چیک ڈیموں کی تعمیر اور تالابوں کو پانی سے بھرنے کے منصوبوں کے لیے ان اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ریاست کے آبی وسائل کا زیادہ مؤثر اور پائیدار انتظام یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ مردم شماری سے یہ طے کرنے میں بھی مدد ملے گی کہ کن علاقوں میں فوری طور پر آبی تحفظ کے اقدامات کی ضرورت ہے، کہاں زیرِ زمین پانی کی سطح بحال کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے اور کن علاقوں میں چھوٹی آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر اجے دھرم سنگھ نے مقررہ مدت میں اس بڑے ریاست گیر سروے کو مکمل کرنے والے تمام افسران اور ملازمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اچھی کارکردگی کا اعتراف اور اہلکاروں کی حوصلہ افزائی بہتر حکمرانی کا اہم حصہ ہے۔ ریاست بھر میں انجام دی جانے والی اس وسیع مردم شماری کی کامیابی میں حصہ لینے والے ہر افسر اور ملازم کی محنت قابلِ ستائش ہے۔


Share: