بنگلورو، 9 نومبر (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیرِ اعلیٰ سدارامیانے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے تمام آئینی اور جمہوری اداروں کی خودمختاری بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وہ اب مرکزی حکومت کے تابع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی نہ صرف جھوٹ بولنے میں ماہر ہے بلکہ ووٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے منظم نظام میں بھی پیش پیش ہے۔‘‘
کے پی سی سی دفتر میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ بی جے پی نے مختلف ریاستوں اور لوک سبھا انتخابات میں غیر قانونی طریقے سے اقتدار حاصل کیا، جس کے ثبوت کانگریس کے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے مسلسل تحقیق اور ٹھوس شواہد کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ بی جے پی نے کئی نشستوں پر منظم ووٹ چوری کی۔ یہ صرف انتخابی جرم نہیں بلکہ آئین سے غداری اور جمہوریت کے ساتھ بدترین دھوکہ ہے۔‘‘
وزیرِ اعلیٰ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ، جو کہ آئینی طور پر ایک خودمختار ادارہ ہونا چاہیے، اب مرکزی حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آئین میں واضح طور پر کہا تھا کہ انتخابی اداروں کو آزاد اور غیر جانبدار رہنا چاہیے تاکہ منصفانہ انتخابات ممکن ہوں، لیکن آج ان اداروں کو غلام بنا دیا گیا ہے۔‘‘
سدارامیا نے اعلان کیا کہ کانگریس پارٹی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ایک وسیع عوامی تحریک شروع کرے گی۔ اس مقصد کے لیے ریاست بھر میں ایک کروڑ سے زائد دستخط جمع کیے جائیں گے، جو بعد میں الیکشن کمیشن اور صدرِ جمہوریہ ہند کو پیش کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تحریک صرف سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کے تحفظ اور عوام کے حقِ رائے دہی کی حفاظت کے لیے ہے۔ ’’ہم بی جے پی کے جھوٹ اور دھاندلی کے خلاف عوامی بیداری پیدا کریں گے تاکہ ملک کے شہری سمجھ سکیں کہ کس طرح جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔‘‘
اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ و کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار، وزیر ستیش جارکی ہولی، پارٹی کے کارگذار صدر جی سی چندرشیکھر، سلیم احمد، اور ریاستی یوتھ کانگریس صدر منجناتھ سمیت کئی سینئر رہنما موجود تھے۔