ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / تارکین وطن کے خلاف چھاپوں پر امریکہ بھر میں احتجاج کی لہر – لاس اینجلس میں کرفیو، متعدد شہروں میں مظاہرے اور گرفتاریاں

تارکین وطن کے خلاف چھاپوں پر امریکہ بھر میں احتجاج کی لہر – لاس اینجلس میں کرفیو، متعدد شہروں میں مظاہرے اور گرفتاریاں

Thu, 12 Jun 2025 10:44:35    S O News

نیویارک، 12/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں تارکین وطن کے خلاف جاری سرکاری کارروائیوں کے ردعمل میں شروع ہونے والے مظاہرے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ نیشنل گارڈز کی تعیناتی اور سیکوریٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود منگل کو مسلسل پانچویں دن بھی حالات قابو میں نہ آ سکے۔ احتجاج کے دوران پیش آنے والے تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات کے پیش نظر شہر کی میئر کیرن باس نے مرکزی علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثناء پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے، لیکن احتجاج کی لہر تھمنے کے بجائے مزید شہروں تک پھیل گئی ہے، اور نیویارک، شکاگو، فلاڈیلفیا، اور آسٹن سمیت کئی امریکی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

 

  لاس اینجلس کے مظاہروں کی تائید میں  نیویارک اور شکاگو میں بھی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ نیویارک کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو نیویارک میں  احتجاج کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ نیویارک میں مظاہرے مجموعی طور پر پرامن رہے۔  پولیس نے بتایا کہ کئی افراد سڑک پر بیٹھ کر  گاڑیوں کی آمد و رفت کو روک رہے تھے۔ انہیں   متعدد بار زبانی طور پر سڑک کو خالی کرنے کی ہدایت دی گئی مگر  جب اس  پر عمل نہیں  ہوا  تو متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ لاس اینجلس  کے ساتھ  امریکہ کے جن شہروں میں مظاہرے پھیل گئے ہیں ان میں  نیویارک ، شکاگو، اٹلانٹا، فلاڈلفیا، ڈلاس، اوہاما، سیئٹل  اور سان فرانسسکو قابل ذکر ہیں۔

اس بیچ ٹیکساس کے کئی شہروں میں مظاہروں کو دیکھتے  ہوئےنیشنل گارڈس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔گورنر گریگ ایباٹ نے خود پوری ریاست میں  نیشنل گارڈس کی تعیناتی کافیصلہ کیا ہے۔اس طرح نیشنل گارڈس کو تعینات کرنے والے وہ پہلے گورنر بن گئے ہیں۔ نیشنل گارڈس کی تعیناتی کو امریکہ میں ریاستوں کے معاملات میں وفاقی حکومت کی مداخلت کے طور پر بھی دیکھا جاتاہے۔ گورنر گریگ ایباٹ نے نیشنل گارڈس کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پرامن احتجاج قانونی  ہے مگر کسی شخص کو یا املاک کو نقصان پہنچانا غیر قانونی ہے اور ایسا کرنے پر گرفتاری ہوگی۔‘‘

لاس اینجلس کی میئرکیرن باس نے  نامہ نگاروں کو بتایاکہ ’’میں نے  ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے ۔ ساتھ ہی لاس اینجلس سٹی میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کو روکنے کیلئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’کرفیو بُرے افراد کو روکنے کیلئے   نافذ کیا گیا ہے جو امریکی صدر کی جانب سے پیدا کی گئی  افراتفری میں اضافے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

لاس اینجلس پولیس محکمہ نے کرفیو کے نفاذ کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔اس بیچ ریاست کیلیفورنیا ،لاس اینجلس جس کا اہم شہر ہے، کے گورنر گیون نیوزوم نے  لاس اینجلس  میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ نیشنل گارڈ کی تعیناتی  پر سخت تنقید کی ہے۔ امریکی صدر کو مظاہروں کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے گورنر نے الزام لگایا کہ اب وہ کیلی فورنیا میں  اسطرح  کارروائی  کررہے ہیں جیسے ’’فوجی اہداف کو نشانہ بنارہے ہوں۔‘‘ گیون نیوزوم نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہاکہ ’’اس ڈھٹائی سے طاقت کے غلط استعمال نے ایک ایسی دھماکہ خیز صورت حال کو ہوا دی ہے، جس سے ہمارے لوگوں، ہمارے افسران اور نیشنل گارڈ کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔‘‘  نیوزوم نے کہا کہ ’’جمہوریت ہماری آنکھوں کے سامنے حملے کی زد  پر ہے۔‘‘

انہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دیگر ریاستوں کو بھی متنبہ کیا اور کہا کہ ’’کیلیفورنیا اس کا پہلا نشانہ ہو سکتا ہے لیکن واضح ہے کہ یہ یہیں ختم نہیں  ہوگا ،آگے دوسری ریاستیں بھی ہیں اور پھر اس کے بعد جمہوریت کو ہی نشانہ بنایا جائےگا۔ ‘‘ اس بیچ لاس اینجلس کی میئر کیرن باس نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا  ہےکہ وہ چاہتی ہیں کہ ٹرمپ تارکین وطن کی پکڑ دھکڑ کیلئے  چھاپوں کی    کارروائی پر روک لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ’’میں ان خاندانوں کے بارے میں سوچتی ہوں، جوموجودہ حالات میں کام پر جانے اور اسکول جانے سے ڈر رہےہیں۔‘‘


Share: