ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پر گھمسان، مودی کا اپوزیشن پر سخت حملہ، پرینکا گاندھی کا جوابی وار—’جمہوریت کی جیت‘ کا دعویٰ

پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پر گھمسان، مودی کا اپوزیشن پر سخت حملہ، پرینکا گاندھی کا جوابی وار—’جمہوریت کی جیت‘ کا دعویٰ

Sun, 19 Apr 2026 12:10:38    S O News

نئی دہلی ، 19/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے معاملے میں بری طرح شکست کھانے کے بعد وزیر اعظم مودی نے سنیچر کو قوم سے خطاب کیا۔ یہاں پر انہوں نے اپنے خطاب میں اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا ریزرویشن ایک ایماندارانہ اقدام تھالیکن اپوزیشن نے اوچھی چالیں چل کر اسے روک دیا۔ انہوں نے کانگریس، ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ڈی ایم کےکو اس کے لئے مورد الزام ٹھہرایا۔ مودی نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن میں رکاوٹیں ڈالی ہیں۔ انہوں نے کانگریس کو طفیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ علاقائی پارٹیوں کی مدد سے زندہ ہے اور اب اس کا اصلی چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔پی ایم مودی نے کہاکہ ٹی ایم سی، سماج وادی اور کانگریس سبھی خواتین مخالف ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ملک کی خواتین کی ترقی ہو۔ پی ایم نے کہا کہ یہ جماعتیں ملک کی ماتاؤں بہنوں کے بااختیار ہونے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔پی ایم نے کانگریس پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس کا ایک ہی کام ہے، حکومت کے ہر اچھےکام میں رخنہ اندازی کرو۔کانگریس نےتین طلاق کی مخالفت کی، دفعہ ۳۷۰؍کی منسوخی کی مخالفت کی اور اب انہوں نے خواتین کے ریزرویشن بل کی بھی مخالفت کی۔ کانگریس اصلاحات کا نام سنتے ہی چیخ وپکار شروع کردیتی ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ ملک مضبوط ہو۔پی ایم نے کہاکہ وہ بھول رہے ہیں کہ ۲۱؍ویں صدی کی خواتین ملک کے ہر واقعے پر نظر رکھتی ہیں، وہ ان کے ارادوں کو سمجھتی ہیں اور سچائی سے پوری طرح واقف ہیں۔ اس لئے اپوزیشن نے خواتین کے ریزرویشن کی مخالفت کرکے جو پاپ کیا ہے، انہیں اس کی سزا ضرور ملے گی۔ وزیر اعظم مودی نے قوم سے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ بعض لوگوں کے لیے قومی مفادات سے زیادہ پارٹی مفادات اہم رہے ہیں۔ خواتین کی طاقت کے عروج کو روکنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جب پارلیمنٹ میں خواتین کی بہبود کی تجویز کو شکست ہوئی تو ملک کی اپوزیشن پارٹیاں جوش و خروش سے میزیں تھپتھپا رہی تھی۔ اس منظر سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی خواتین نے اب اپوزیشن کا اصل چہرہ دیکھ لیا ہے۔اپوزیشن کی ترجیحات ہمیشہ سوالیہ نشان رہی ہیں۔ ان کے  لئے ملک کی بیٹیوں کے مستقبل سے زیادہ سیاسی فائدے اہم ہیں۔ خواتین کے حقوق کو دبانے کی بار بار کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔پارلیمنٹ میں خواتین کے تحفظ اور وقار سے متعلق بل کو شکست ہوئی تو اپوزیشن کا جوش حیران کن تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ شکست ان کی نہیں بلکہ ملک کی کروڑوں بیٹیوں کے خوابوں کی شکست ہے۔ میزیں ٹھوک کر اپوزیشن نے براہ راست خواتین کی طاقت کی توہین کی ہے۔پی ایم نے اپوزیشن پارٹیوں اور خاص کر کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ خواتین کو بااختیار نہیں بنانا چاہتی۔ وہ صرف ووٹ بینک کی سیاست میں مصروف ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس بل کا مقصد کسی سے کچھ لینا نہیں  بلکہ ہر ایک کو حقوق دینے کا تھا اور ۴۰؍ سال سے زیر التواء خواتین کے حقوق کو نافذ کرنا تھا لیکن اپوزیشن نے ہماری ایماندارانہ کوشش کو مذاق بنادیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اپنے تمام دکھ بھول جاتی ہیں، مگر اپنی بے عزتی کبھی نہیں بھولتیں۔ اب جب بھی خواتین ان لیڈروں کو اپنے علاقوں میں دیکھیں گی تو انہیں یاد آئے گا کہ انہی لوگوں نے پارلیمنٹ میں ان کا حق روکا تھا اور پھر وہ ان کو روکیں گی۔

کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے خواتین ریزرویشن اور حد بندی کے معاملے پر بی جے پی کے خلاف زبردست جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس کر کےکہا کہ کل پارلیمنٹ میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔ مودی حکومت نے جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو بدلنے کی سازش کی تھی، جسے ہم نے شکست دے دی۔ یہ آئین کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے، اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے، جو حکمراں جماعت کے لیڈران کے چہرے پر واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔پرینکا گاندھی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نے اپنی اپنی تقریروں میں کہا کہ اگر اپوزیشن اس معاملہ پر متفق نہیں ہوگی تو نہ کبھی انتخاب جیت پائے گی اور نہ ہی اقتدار میں آ پائے گی۔ ان باتوں سے ہی واضح ہو گیا کہ حکومت کا ارادہ کیا تھا۔ میراماننا ہے کہ حکومت کے ذریعہ سازش رچی گئی، اس کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ہے۔ اس کے لئے حکومت نے خواتین کا استعمال کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی تھی کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر اپوزیشن یہ بل پاس کروا دے، تاکہ انہیں من مانے طریقے سے حد بندی کی آزادی مل جائے، جس سے مودی حکومت کو ذات پر مبنی مردم شماری کا سہارا نہ لینا پڑے۔پرینکا گاندھی کے مطابق مودی حکومت کا ماننا تھا کہ اگر بل منظور ہوگا تو ان کی جیت ہوگی اور بل منظور نہیں ہوا تو اپوزیشن کو خواتین مخالف بتا دیں گے۔ بی جے پی ایسا کر کے خود کو خواتین کا مسیحا ثابت کرنا چاہتی تھی۔کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کے مطابق خواتین کے حوالے سے بی جے پی کی ایک تاریخ رہی ہے۔ یہ تاریخ انتہائی واضح ہے۔ صرف ایوان میں اس کے برعکس کہنے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ملک کی خواتین نے انّاؤ کو دیکھا، ہاتھرس کو دیکھا، خواتین کشتی کھلاڑیوں کو دیکھا اور منی پور کی خواتین کو بھی دیکھا۔ مودی حکومت نے کبھی ان کی خبر گیری نہیں کی اورکل پارلیمنٹ میں ’خواتین کا مسیحا‘ بننے کی کوشش کررہی تھی لیکن ہم نے انہیں ناکام کردیا۔

پریس کانفرنس کے دوران پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ خواتین ریزرویشن بل کی بات نہیں تھی۔ یہ بات حد بندی سے متعلق تھی۔ مودی حکومت نے بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا پیش کیا تھا ۔ مودی حکومت کو حد بندی اس بنیاد پر کرنا تھا، جس میں اسے ذات پر مبنی اعداد و شمار کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور من مانی کرنے کی مکمل آزادی ہوتی۔ ایسے میں ممکن ہی نہیں تھا کہ اپوزیشن مودی حکومت کا ساتھ دے۔ پورے ملک نے دیکھ لیا ہے کہ جب اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو کیسے مودی حکومت کو شکست دی جاتی ہے۔کانگریس کی جنرل سکریٹری کے مطابق مودی حکومت کو پہلی بار دھچکا لگا ہے، اس لیے اسے ’بلیک ڈے‘ کہہ رہی ہے۔ یہ دھچکا لگنا بہت ضروری تھا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ۲۰۲۳ء میں جو خواتین ریزرویشن بل اتفاق رائے سے منظور ہوا تھا، مودی حکومت اسے ابھی نافذ کرے اور خواتین کو ان کے حقوق دے۔ خواتین ریزرویشن کے  لئے پورا اپوزیشن تیار ہے لیکن کیا حکومت میں ہمت ہے؟ عوام کی تعریف کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک کے عوام پوری طرح بیدار ہیں، حکومت انہیںگمراہ نہیں کر سکتی۔  بی جے پی جتنا چاہیں ڈراما کر لے عوام انہیں دیکھ چکے ہیں۔ اس لئے ان کی باتوں پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ 


Share: