نئی دہلی، 18 اپریل (ایس او نیوز): ہندوستان کی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے سے متعلق اہم آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا اور مسترد ہو گیا، جس کے بعد قومی سیاست میں زبردست ہلچل اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان شدید محاذ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
یہ بل، جسے آئین (131ویں ترمیم) بل 2026 کے طور پر پیش کیا گیا تھا، پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو ایک تہائی نمائندگی دینے کے مقصد سے لایا گیا تھا۔ تاہم، آئینی تقاضوں کے مطابق اسے منظور ہونے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی، جو حاصل نہ ہو سکی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بل کے حق میں تقریباً 298 ووٹ پڑے جبکہ 230 ارکان نے مخالفت کی، جبکہ منظوری کے لیے 352 ووٹ ضروری تھے۔ اس طرح واضح عددی برتری کے باوجود بل آئینی حد کو عبور نہ کر سکا۔ بل کی ناکامی کے فوراً بعد حکومت نے اس سے متعلق دیگر مجوزہ بل بھی واپس لے لیے۔ اطلاعات کے مطابق اس بل میں لوک سبھا کی نشستوں کو بڑھا کر تقریباً 850 تک کرنے کی تجویز بھی شامل تھی، جو سب سے زیادہ تنازع کا سبب بنی۔
حکمراں جماعت بی جے پی اور حکومت نے اس بل کو خواتین کو بااختیار بنانے کی تاریخی کوشش قرار دیا اور اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا کہ وہ خواتین ریزرویشن کی مخالف نہیں بلکہ بل کے طریقہ کار اور اس سے جڑے نکات پر اعتراض رکھتی ہیں۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت اس بل کے ذریعے انتخابی حلقوں میں رد و بدل (جیری مینڈرنگ) کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق خواتین ریزرویشن کو نئی حلقہ بندی سے جوڑنا دراصل سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ خاص طور پر جنوبی ہند کی ریاستوں کے رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئی حلقہ بندی کے ذریعے ان کی نمائندگی کم کی جا سکتی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت “خواتین کے پیچھے چھپ کر سیاسی کھیل کھیل رہی ہے”، جبکہ پرینکا گاندھی نے بل کی ناکامی کو “جمہوریت کی جیت” قرار دیا۔ ششی تھرور کے مطابق اپوزیشن نے “جمہوریت کو بچانے کے لیے ووٹ دیا”، جبکہ مہوا موئترا نے اس بل کو “منافقت” سے تعبیر کیا۔
بل کی ناکامی کے بعد سیاسی ردعمل میں مزید شدت آ گئی۔ اروند کیجریوال نے اسے وزیر اعظم کی “انا پرستی کی شکست” قرار دیا، جبکہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اسے “تاریخی جیت” کہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ مرکز کی بالادستی کے خلاف ریاستوں کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نتیجے سے واضح ہوتا ہے کہ جنوبی ریاستیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور اس کا اثر آنے والے انتخابات پر بھی پڑے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور بعض اپوزیشن رہنماؤں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس بل کو ایسے وقت میں پیش کیا گیا جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع، کے دوران حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھ رہے تھے۔ ان کے مطابق جنگ کے بعد ہندوستان کو درپیش معاشی اور سفارتی چیلنجز، نیز ایران، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ نے حکومت کی شبیہ کو متاثر کیا، اور اس بل کے ذریعے عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
کچھ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے معاملے میں ہندوستان کا کردار کمزور رہا جبکہ پڑوسی ملک پاکستان زیادہ متحرک نظر آیا۔ ان کے مطابق حکومت کی حکمت عملی عوام کی توجہ ہٹانے میں ناکام رہی، اور بل کی شکست نے اس کوشش کو مزید بے نقاب کر دیا۔ ساتھ ہی توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور ایل پی جی کی قلت جیسے مسائل بدستور عوام کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ تقریباً تین دہائیوں سے زیر بحث رہا ہے۔ 2023 میں اس سے متعلق قانون منظور ضرور ہوا تھا، مگر اس کا نفاذ مردم شماری اور حلقہ بندی سے مشروط تھا۔ ناقدین کے مطابق حکومت نے مردم شماری میں تاخیر کے باوجود اس نئے بل کو جلد بازی میں پیش کیا، جو بالآخر ناکام ثابت ہوا۔
میڈیا اداروں اور تجزیہ نگاروں نے اس پیش رفت کو مختلف زاویوں سے دیکھا۔ بعض کے مطابق حکومت اس بل کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی تھی، لیکن اپوزیشن کی غیر معمولی یکجہتی نے اس حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔
کئی مبصرین نے اس نتیجے کو جنوبی ریاستوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا اور خبردار کیا کہ مستقبل میں مرکز اور ریاستوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر نمائندگی اور وسائل کی تقسیم کے معاملات پر۔
بعض رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ میں مرکز کی بی جے پی حکومت کو اس نوعیت کی ناکامی کا سامنا پہلی بار کرنا پڑا ہے، جو نہ صرف اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ وفاقی ڈھانچے، نمائندگی کے اصول اور آئینی عمل کی پیچیدگیوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وسیع تر مشاورت کے ذریعے ایک ایسا متفقہ حل تلاش کرے جس سے خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی جیسے حساس مسائل کو قابل قبول اور دیرپا انداز میں حل کیا جا سکے۔
بل کی ناکامی کے بعد اپوزیشن کے حملے اب مزید تیز ہو گئے ہیں۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس نتیجے کو “جمہوریت کی بڑی جیت” قرار دیا اور کہا کہ حکومت کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا نہیں بلکہ حلقہ بندی کے ذریعے ملک کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو چیلنج کیا کہ وہ فوری طور پر موجودہ 543 نشستوں پر ہی 33 فیصد ریزرویشن نافذ کریں اور 2023 میں متفقہ طور پر منظور شدہ قانون کو عملی جامہ پہنائیں۔
پرینکا گاندھی نے مزید الزام لگایا کہ حکومت خواتین ریزرویشن کے نام پر انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی “سازش” کر رہی تھی، جبکہ اپوزیشن نے اس کوشش کو ناکام بنا کر جمہوری توازن کو بچایا۔
اسی سلسلے میں اپوزیشن کی مجموعی حکمت عملی یہ رہی کہ وہ اس شکست کو “خواتین کے خلاف نہیں بلکہ ڈیلمیٹیشن کے خلاف فیصلہ” کے طور پر پیش کرے، جبکہ حکمراں جماعت کی جانب سے اس کے برعکس اپوزیشن کو خواتین مخالف قرار دینے کی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آج کی پریس کانفرنسز اور بیانات سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف ایک بل تک محدود نہیں رہا بلکہ آنے والے انتخابات سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑی سیاسی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں خواتین ریزرویشن، حلقہ بندی اور وفاقی توازن جیسے بنیادی سوالات مرکز میں آ گئے ہیں۔