نئی دہلی 18/اپریل (ایس او نیوز): پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا، جس کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ اس پیش رفت کو جہاں بی جے پی حکومت کے لیے سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، وہیں اپوزیشن جماعتوں نے اسے اپنی مشترکہ حکمت عملی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈران نے بل کی مخالفت کو خواتین ریزرویشن کے خلاف نہیں بلکہ اسے حد بندی (ڈیلمیٹیشن) سے جوڑنے کے خلاف قرار دیا۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ بل کا اصل مقصد نمائندگی کے نظام کو تبدیل کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا۔ اسی طرح تلنگانہ کے رہنما کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر ایک متفقہ مسئلے کو متنازع بنا کر اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی خبردار کیا کہ 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر ممکنہ حد بندی سے جنوبی اور مشرقی ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے، جو وفاقی توازن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
نیشنل میڈیا رپورٹوں کے ساتھ ساتھ انگریزی اخبارات کے ایڈیٹوریل میں بھی حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے گئے۔ معروف اخبار دی ہندو نے اپنے اداریے میں اس ناکامی کو متوقع قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ حکومت نے ایک حساس آئینی معاملے کو جلد بازی میں آگے بڑھایا۔ اداریے کے مطابق بل میں واضح تضادات موجود تھے اور خواتین ریزرویشن کو حد بندی سے جوڑنا غیر ضروری اور متنازع قدم تھا۔ اسی طرح انڈین ایکسپریس سمیت دیگر میڈیا اداروں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مردم شماری کے تازہ اعداد و شمار کے بغیر نمائندگی میں تبدیلی کا عمل شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے اور ریاستوں کے درمیان عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس پورے معاملے کا سب سے نمایاں پہلو اپوزیشن کا غیر معمولی اتحاد رہا۔ مختلف نظریاتی جماعتوں نے ایک مشترکہ موقف اپناتے ہوئے نہ صرف بل کی مخالفت کی بلکہ پارلیمنٹ میں حکومت کو مؤثر طریقے سے چیلنج بھی کیا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اتحاد آنے والے انتخابات میں بی جے پی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ اپوزیشن اب ایک مشترکہ ایجنڈے پر آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے اس ناکامی کا ذمہ اپوزیشن پر عائد کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے سیاسی مفادات کے لیے خواتین کو ان کے حق سے محروم کیا، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کے رویے کو “غیر ذمہ دارانہ سیاست” قرار دیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بل خواتین کو آئندہ انتخابات سے قبل مناسب نمائندگی دینے اور انتخابی عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے ضروری تھا۔
کئی مبصرین نے اس نتیجے کو جنوبی ریاستوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ سے بھی جوڑا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں نمائندگی اور وسائل کی تقسیم جیسے مسائل پر مرکز اور ریاستوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بل کی ناکامی سے خواتین ریزرویشن کا معاملہ مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے، حالانکہ اصولی طور پر اس پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔
مجموعی طور پر، اس پیش رفت نے نہ صرف پارلیمانی سیاست میں اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اجاگر کیا ہے بلکہ وفاقی ڈھانچے، نمائندگی کے اصول اور آئینی عمل کی پیچیدگیوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ وسیع مشاورت کے ذریعے ایسا متفقہ راستہ تلاش کرے جس سے خواتین ریزرویشن اور حد بندی جیسے حساس معاملات کو قابل قبول انداز میں حل کیا جا سکے۔