بھٹکل، 22 / اپریل (ایس او نیوز) مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے شہر میں منعقدہ مسلم اور غیر مسلم حاضرین پر مشتمل عید ہم آہنگی اجلاس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہیسکام کے چیئرمین سید عظیم پیر قادری نے کہا کہ مسلمانوں کو مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم سے آراستہ ہو کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہئے اور آئینِ ہند کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص درخواست دے کر کسی سماج میں پیدا نہیں ہوتا ۔ جو پیدا ہوتا ہے اسے مرنا ہی ہے ۔ مگر آدمی کے اچھے کام زندہ رہتے ہیں ۔ ہم آہنگی ہر سماج کے لئے ضروری ہے ۔ ہندووں اور مسلمانوں کو متحد ہو کر شہر کی ترقی کے لئے تعاون کرنا چاہیے ۔
ضلع پنچایت چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر دلیش نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک معاشرہ مختلف سماج اور طبقات سے تشکیل پاتا ہے ۔ سماجی تحفظ اور اور سماجی ہم آہنگی قائم رکھنے میں تنظیموں اور اداروں کا کردار اہم ہوتا ہے ۔
ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپن ایم این نے کہا کہ اتر کنڑا میں کاروار، سرسی اور بھٹکل میں موٹر گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ سڑک حادثوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس پر روک لگانے کے لئے ٹریفک قوانین پر عمل کرنا بہت اہم ہوتا ہے ۔ موٹر گاڑیاں چلانے کے تعلق سے نوجوانوں میں بیداری لانے کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ منشیات کے استعمال روکنے کے تعلق سے پروگرام شروع کیا جائے گا ۔

محکمہ جنگلات کے ڈی سی ایف گریش نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان میں مختلف ثقافتیں ایک ساتھ جڑی ہوئی ہیں ۔ ملک کی اس قوت اور صلاحیت کے تعلق سے بچوں کو آگاہ رکھنا چاہیے ۔ ماحولیات کے تحفظ پر زور دینا چاہیے ۔ عبادت کا کوئی رنگ نہیں ہوتا ۔
ضلع پنچایت کے سابق نائب صدر راما موگیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایّپّا سوامی کے درشن، نیترانی پوجا ان سب میں پہلے ہی سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔
مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری نے اجلاس کی صدارت کی ۔ جنرل سیکریٹری مولوی عبدالرقیب ایم جے نے افتتاحی خطاب کیا ۔ مولانا عزیز الرحمن ندوی کی تلاوت کلام سے جلسے کا آغاز ہوا ۔ جناب رضا مانوی نے پروگرام کی نظامت کی ۔
اس موقع پر مہمان گریش، تحصیلدار ناگیندرا کولا شیٹی، بھٹکل سی ایم سی کے کمشنر بابا صاحب مانے، ٹی ایم سی کے سابق انچارج صدر الطاف کھروری، جماعت المسلمین بھٹکل کے چیف قاضی مولانا عبدالرب خطیبی ندوی وغیرہ اسٹیج پر موجود تھے ۔