ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ایرانی جہاز پر امریکہ کی ضبطی؛ مشرقِ وسطیٰ میں پھر کشیدگی، ایران کا امن مذاکرات سے انکار

ایرانی جہاز پر امریکہ کی ضبطی؛ مشرقِ وسطیٰ میں پھر کشیدگی، ایران کا امن مذاکرات سے انکار

Mon, 20 Apr 2026 13:53:33    S O News
ایرانی جہاز پر امریکہ کی ضبطی؛ مشرقِ وسطیٰ میں پھر کشیدگی، ایران کا امن مذاکرات سے انکار

واشنگٹن / تہران، 20 اپریل (ایس او نیوز/رائٹرز/اے پی/گارجین/الجزیرہ): مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے، جب امریکہ نے شمالی بحیرۂ عرب میں ایران کے جھنڈے والے بڑے تجارتی جہاز M/V Touska کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ امریکی فوجی کمان CENTCOM نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران کی بندرگاہ بندر عباس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کے جدید میزائل بردار جنگی جہاز USS Spruance (DDG-111) نے جہاز کو روکنے کے لیے متعدد وارننگز جاری کیں، تاہم عملے کی جانب سے تعاون نہ کرنے پر جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنا کر اسے ناکارہ کیا گیا، جس کے بعد امریکی میرینز نے جہاز پر قبضہ کر لیا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ جہاز چین سے ایران جا رہا تھا اور امریکی ناکہ بندی کو نظرانداز کر رہا تھا۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز مکمل طور پر امریکی تحویل میں ہے اور اس کی تلاشی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 295 میٹر طویل یہ کنٹینر جہاز پہلے ہی امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل تھا۔

یہ واقعہ 13 اپریل 2026 سے نافذ امریکی بحری ناکہ بندی کے تحت پہلی بڑی عسکری کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایران آنے جانے والے جہازوں کو روکنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ایران کا شدید ردعمل
ایران نے اس کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی فوجی ترجمان نے اسے "مسلح قزاقی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

رپوٹس کے مطابق ایران نے تازہ واقعے کے بعد امن مذاکرات سے بھی انکار کر دیا ہے اور امریکی مطالبات کو "غیر منطقی" قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی تیل برآمدات کو روکا گیا تو خطے کے دیگر ممالک بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔

امریکہ کا موقف: 
امریکی حکام کے مطابق جہاز کو کئی گھنٹوں تک روکنے کی ہدایات دی گئیں، تاہم عملے نے تعاون نہیں کیا، جس کے بعد محدود طاقت کا استعمال کیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی عالمی سمندری سکیورٹی اور ناکہ بندی کے نفاذ کے لیے ضروری قرار دی گئی ہے۔

موجودہ جنگی صورتحال:
برطانوی اخبار گارجین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور ٹوٹنے کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ اس تازہ واقعے کے بعد خلیجی خطے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ  28 فروری 2026 کو امریکہ  اور اسرائیل  نے ایرانی فوجی، حکومتی، اور نیوکلیئر سائٹس پر حملے کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر  علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکام کو شہید کر دیا۔اس کے بعد ایران کے ایک اسکول پر میزائل حملے میں سینکڑوں معصوم بچوں کی شہادت کی خبر نے پورے ایران سمیت  متعدد ملکوں میں بھی  غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ ایران نے جواب میں اسرائیلی شہروں اور امریکی اڈوں  بالخصوص بحرین،دبئی، ابوظبی اور سعودی کے بعض علاقوں پر میزائل  اور ڈرون  حملے کئے، اور ابنائے ہرمز بند کر دیا جس کے نتیجے میں دنیا کی 20% تیل سپلائی متاثر ہوئئ۔ 8 اپریل کو پاکستان کی وساطت سے دو ہفتوں کی جنگ بندی یعنی  ceasefire ہوا، مگر خلاف ورزیاں جاری رہیں جس کی وجہ سے ایران نے 18 اپریل کو ابنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا، اس درمیان امریکہ نے سمندر میں بندش  نافذ کی۔ جب اسلام آباد بات چیت بھی ناکام ہوئی تو 20 اپریل کو دوبارہ مذاکرات رکھے گئے تھے لیکن اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے بار بار  خلاف ورزیوں کی خبریں سامنے  آنے کی وجہ سے کہا جارہا تھا کہ ایران  ان مذاکرات کاممکنہ طور پر بائیکاٹ کرےگا۔

اب جبکہ ایران کی جانب سے ابنائے ہرمز کی بندش کے اعلان نے عالمی معیشت کی بنیادیں ہلا دی تھیں، اور اب جہاز کی ضبطگی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

عالمی ردعمل
چین، جو ایران کا اہم تجارتی شراکت دار ہے، نے صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ متعلقہ جہاز چین سے ایران جا رہا تھا۔

خلیجی ممالک پہلے ہی شدید خدشات کا شکار ہیں۔ مبصرین کے مطابق خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے باعث یہ ممالک کسی بھی ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں، جبکہ ایران پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ حملوں کی صورت میں وہ خطے کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ روس اور دیگر ممالک کی جانب سے بھی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور فریقین سے تحمل برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔

صورتحال کا تجزیہ
عالمی برادری ایک جانب جنگ بندی کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ پاکستان سمیت بعض ممالک میں ممکنہ سفارتی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم تازہ واقعے نے ان کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو ابنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق ایرانی جہاز ٹوسکا کی امریکی تحویل میں لیے جانے کی کارروائی نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو انتہائی خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بڑے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب دنیا کی نظریں ایران کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں—آیا وہ جوابی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے یا سفارتی حل کی جانب بڑھتا ہے، کیونکہ اس کا فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے مستقبل کا تعین کرے گا۔


Share: