میسورو 20/اپریل (ایس او نیوز) کرناٹک کے ضلع میسورو کے تعلقہ کے آر نگر میں اتوار کو پیش آئے ایک افسوسناک واقعہ میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد کاؤیری ندی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے، جبکہ دو افراد کو شدید زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔ یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب یہ افراد ایک مذہبی تقریب (عرس) میں شرکت کے لیے آئے تھے۔
ذرائع کے مطابق، یہ تمام افراد حضرت خضر لنگاولی کے عرس میں شرکت کے لیے بنگلورو، میسورو اور اوٹی سے کے آر نگر آئے تھے۔ عرس میں شرکت کے بعد یہ لوگ قریبی ارکیشور سوامی مندر کے پیچھے بہنے والی کاؤیری ندی میں نہانے کے لیے اترے تھے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، ایک کم عمر بچہ اچانک گہرے پانی میں ڈوبنے لگا۔ اسے بچانے کے لیے خاندان کے دیگر افراد یکے بعد دیگرے پانی میں اترتے گئے، لیکن ندی کی گہرائی اور تیز بہاؤ کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے سب کے سب ڈوبتے چلے گئے۔
پتہ چلا ہے کہ کل آٹھ افراد پانی میں اترے تھے، جن میں سے دو کو مقامی لوگوں نے بچا لیا، جبکہ باقی چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
مقامی حکام کے مطابق، ندی کے بیچ میں ترقیاتی کاموں کے دوران گہرے گڑھے (pit) کھودے گئے تھے، جن کے بارے میں باہر سے آنے والے افراد کو علم نہیں تھا۔ یہی گہرے حصے اس سانحے کی بڑی وجہ بنے۔
مرنے والوں کی شناخت فاطمہ، محمد یاسین، نہا کوثر، ایمان (13 سال)، عفیف احمد (13 سال) اور ایک 5 سالہ بچہ (نام معلم نہ ہوسکا) کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔
تمام متوفیان ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جس کی وجہ سے پورا علاقہ غم میں ڈوب گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور مقامی غوطہ خور موقع پر پہنچے اور لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ بعد ازاں تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے کے آر نگر تعلقہ اسپتال منتقل کیا گیا۔ �
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے اس المناک واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہر متاثرہ خاندان کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ زخمیوں کے علاج کا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔
لاشوں کی حوالگی کے دوران اسپتال میں کہرام مچ گیا اور لواحقین کے رونے کی آوازوں سے فضا سوگوار ہوگئی۔ مقامی عوام نے بھی اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
اس حادثہ کے بعد ماہرین اور عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ندی کنارے حفاظتی اقدامات، وارننگ بورڈز اور نگرانی کو مزید سخت کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔