ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ایران۔امریکہ کشیدگی کے دوران آج اسلام آباد مذاکرات متوقع؛ ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد ایران کا دوٹوک مؤقف، شرکت پر غیر یقینی

ایران۔امریکہ کشیدگی کے دوران آج اسلام آباد مذاکرات متوقع؛ ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد ایران کا دوٹوک مؤقف، شرکت پر غیر یقینی

Mon, 20 Apr 2026 01:33:53    S O News
ایران۔امریکہ کشیدگی کے دوران آج اسلام آباد مذاکرات متوقع؛ ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد ایران کا دوٹوک مؤقف، شرکت پر غیر یقینی

واشنگٹن 20 اپریل (ایس او نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات آج (20 اپریل) متوقع ہیں، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خطہ جنگ اور سفارتکاری کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وفد پاکستان پہنچ کر ایران کے ساتھ بات چیت کا نیا دور شروع کرے گا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر کوئی فیصلہ نہیں کرے گا اور یکطرفہ شرائط قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں مکمل بندش نہیں بلکہ “کنٹرولڈ رسائی” نافذ ہے، جبکہ مغربی ذرائع اسے جزوی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔

ادھر اسرائیل کی جانب سے لبنان اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

خلیجی خطے میں بھی حالات کشیدہ ہیں جہاں امریکی اور اتحادی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ کیا گیا ہے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔ انشورنس کمپنیوں نے اس روٹ کو ہائی رسک قرار دیا ہے، جس سے عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اسی تناظر میں چند روز قبل آبنائے ہرمز کے قریب ایک بھارتی ماہی گیری کشتی پر فائرنگ کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا، جسے بعض ذرائع نے وارننگ فائر قرار دیا۔ اگرچہ اس واقعے کی مکمل سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم اسے خطے میں بڑھتے ہوئے بحری خطرات کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد مذاکرات کو نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطہ مزید کشیدگی اور ممکنہ بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔۔


Share: