داونگیرے جنوبی حلقے کے ضمنی انتخاب میں ممکنہ شکست کی ذمہ داری نتائج آنے سے پہلے ہی مسلم کمیونٹی پرکانگریس پارٹی کا ڈالنے کی کوشش کرنا واقعی افسوسناک ہے۔ ایک طرف بی جے پی ہے جو مسلمانوں کو ایک بھی سیٹ نہیں دیتی، اور اگر بجٹ میں مسلمانوں کے لیے کسی اسکیم کا اعلان کیا جائے تو اسے ”صاحب کا بجٹ“ کہہ کر اس کا مذاق اڑاتی ہے اور ہمیشہ مسلمانوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس بار بی جے پی مسلم کمیونٹی پر بے پناہ محبت نچھاور کر رہی ہے اور اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے ساتھ بڑی ہمدردی کا اظہار کر رہی ہے۔اس معاملے میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ بی جے پی مسلمانوں کو سیاسی طور پر غیر متعلق (Irrelevant) ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کانگریس نے داونگیرے میں اسے عملی طور پر کر کے دکھا دیا ہے۔ یہاں ایسا رویہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے، انہیں اپنی نمائندگی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے، اور جو کچھ (ٹکڑے) ہمیں دیے جائیں بس اسی پر قناعت کرنی چاہیے۔کانگریس ہمیشہ اپنے کیے ہوئے احسانات گنواتی رہتی ہے اور فرقہ پرستوں کو ہرانے کے لیے مسلمانوں سے مسلسل حمایت کا مطالبہ کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کا یہ احساس جتنا بی جے پی کے لیے ضروری ہے، اتنا ہی کانگریس کے لیے بھی اہم بن گیا ہے۔اب وقت ہے کہ کانگریس چند اہم سوالات پر غور کرے۔ جب بھی مسلمانوں کے لیے بنائے گئے چھوٹے منصوبوں کو بی جے پی 'خوشامد کی سیاست' (Appeasement Politics) کہہ کر تنقید کرتی ہے، تو کانگریس فوری طور پر دفاعی رویہ (Defensive mood) اختیار کر لیتی ہے۔ چاہے بجٹ ہو، سیاسی نمائندگی ہو یا تعلیم اور معیشت کا شعبہ، جب بھی مسلم کمیونٹی کے حقیقی مسائل سامنے آتے ہیں، کانگریس اس ڈر سے 'مسلم ایشو' پر بحث کرنے سے کتراتی ہے کہ کہیں اس پر کوئی لیبل نہ لگ جائے، اور اس طرح وہ مسلمانوں کو ملنے والے بنیادی حقوق کو بھی کم کر دیتی ہے۔کانگریس (مسلمانوں کے حقوق کو) کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی ترقی کی طرح، ”طویل عرصے سے ووٹ دینے والی مسلم کمیونٹی کی ہمہ جہت ترقی ہمارا مقصد ہے“ یہ بات ہمت کے ساتھ کہنا کانگریس کے لیے ممکن نہیں ہو رہا ہے۔ بی جے پی کا پیدا کردہ یہ عدم تحفظ کا احساس کانگریس میں اب بھی مضبوطی سے جڑ پکڑے ہوئے ہے۔بی جے پی کے اس بیانیے (Narrative) کو چیلنج کر کے، مسلم کمیونٹی کے حق میں مضبوطی سے کھڑے ہونے کی پختگی کانگریس کو دکھانی چاہیے۔مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کے بارے میں اگر کانگریس لیڈروں سے سوال کیا جائے، تو وہ اس کمی کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہی ڈال دیتے ہیں۔ سیاسی نمائندگی سے لے کر کسی بھی اتھارٹی (ادارے) کی چھوٹی سی ذمہ داری تک”مسلم کمیونٹی میں مناسب لیڈر نہیں ہیں، تعلیمی ماہرین نہیں ہیں، ادیب نہیں ہیں، لکھنے والے نہیں ہیں“ جیسی ایک لمبی فہرست پیش کر دیتے ہیں۔
تقریباً ستر سالوں تک اقتدار میں رہنے والی کانگریس حکومت کی ناکامی ہی اس کی اصل وجہ ہے، اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے وہ تیار نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں صرف چند امیر مسلم سیاست دانوں اور ان کے بچوں کو چھوڑ کر، پارٹی کے لیے دن رات کام کرنے والے عام مسلم کارکنوں کو لیڈر بنانے کے لیے کانگریس کو آگے آنا چاہیے۔انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ داونگیرے میں ایک سیٹ مسلمانوں کے لیے چھوڑ دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کمیونٹی کے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں کو سیٹ ملے یا نہ ملے کانگریس پارٹی کے رویے کے خلافدیگر کمیونٹیز (برادریوں) کی جانب سے کی جانے والی تنقید اور مسلم کمیونٹی کی تنقید کے درمیان ایک بڑا فرق ہے،یہ بات اس الیکشن میں واضح ہو گئی ہے۔
دیگر کمیونٹیز کے لوگ کوئی بھی 'اندرونی سمجھوتہ' (Internal understanding) کریں تو کانگریس پارٹی اسے برداشت کر لیتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے پارٹی کی مخالفت کرنے یا سوال اٹھانے کا حق ہی نہیں ہے، ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے۔ یہ واقعی ایک تشویشناک بات ہے۔ کانگریس کے لیے ان سنگین سوالات کا جواب تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ کانگریس جس”محبت کی دکان“ کا پرچار کرتی ہے، کیا اس کا مطلب یہی ہے؟ داونگیرے کے انتخابی نتائج جو بھی ہوں، کانگریس مسلمانوں کو ڈسپلن کا سبق سکھانے پر تلی ہوئی ہے۔ (بہتر ہوگا کہ) کانگریس وہ ڈسپلن پہلے خود اپنے اندر نافذ کرے۔
(مضمون نگار کے خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)