نئی دہلی، 16/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) قومی راجدھانی دہلی میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ سے شروع ہو رہا ہے، جس کے تحت وسیع پیمانے پر اعداد و شمار جمع کرنے کا عمل آغاز پائے گا۔ یہ عمل آئندہ برسوں میں حکومتی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔ حکام کے مطابق اس مرحلے میں شہر بھر میں گھر گھر جا کر سروے کیا جائے گا، جس کا مقصد رہائشی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات سے متعلق تفصیلی معلومات اکٹھی کرنا ہے۔
مردم شماری کے اس ابتدائی مرحلے کو ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت افراد کی گنتی کے بجائے گھروں، عمارتوں اور ان کی حالت کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جائے گا۔ اہلکار ہر علاقے میں جا کر رہائشی اکائیوں کی نقشہ سازی کریں گے تاکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کی درست تصویر سامنے آ سکے۔
اس سروے کے دوران شہریوں سے 33 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ پُر کروایا جائے گا۔ ان سوالات میں گھر کی ملکیت، دستیاب سہولیات، پانی اور بجلی کی فراہمی، بیت الخلا کی موجودگی، نیز گھر کے سربراہ کا نام اور جنس جیسی تفصیلات شامل ہوں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل سے شہری زندگی کے معیار کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ اس بار مردم شماری کا یہ مرحلہ مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے۔ مردم شماری کے عملے کو خصوصی تربیت دی گئی ہے اور انہیں جدید آلات فراہم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے وہ موبائل ایپلیکیشن پر براہ راست معلومات درج کریں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ اعداد و شمار کی درستگی بھی بہتر ہوگی۔
یہ مرحلہ دو الگ الگ تیس روزہ ادوار میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں نئی دہلی میونسپل کونسل اور دہلی چھاؤنی کے علاقوں میں 16 اپریل سے 15 مئی تک سروے ہوگا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں دہلی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام علاقوں میں 16 مئی سے 15 جون تک یہ عمل جاری رہے گا۔
حکام نے بتایا کہ مردم شماری کے عملے کو مخصوص بلاکس تفویض کیے گئے ہیں تاکہ وہ منظم طریقے سے سروے مکمل کر سکیں۔ شہر کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں پر توجہ دی جا رہی ہے جہاں آبادی کا دباؤ زیادہ ہے یا لوگوں کی آمد و رفت مسلسل رہتی ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی کمی یا خلا باقی نہ رہے۔
یہ سروے دہلی کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گا، جن میں شہری، نیم شہری اور دیہی علاقے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر مجاز کالونیوں اور کچی آبادیوں کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ہر طبقے کی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔
حکام کے مطابق مردم شماری کا دوسرا مرحلہ، جس میں افراد کی گنتی کی جائے گی، بعد میں قومی سطح کے شیڈول کے مطابق شروع ہوگا۔ پہلے مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد جمع شدہ اعداد و شمار کو ترتیب دے کر آئندہ حکمت عملی تیار کی جائے گی۔