بیلگاوی، 16/ دسمبر (ایس او نیوز) بیلگاوی میں جاری اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں ریاستی حکومت گئو ذبیحہ پر پابندی والے قانون میں ترمیم کا جو بل پیش کرنے والی تھی اس کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ اب یہ بل پیش نہیں کیا جائے گا ۔
اس سے پہلے ریاستی کابینہ نے گئو ذبیحہ مخالف قانون کرناٹکا پریونشن آف سلاٹر اینڈ پریزرویشن آف کیٹل ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے امنڈمنٹ بل 2025 کو منظور کیا تھا ۔ اس مجوزہ ترمیم کے ذریعے ایکٹ کے مطابق مویشی کو رفت کرنے والی ضبط شدہ موٹر گاڑیوں کو "بینک گارنٹی" کے بجائے گاڑی کی مالیت کے متوازی خود ضمانتی (انڈیمنٹی) بانڈ کی بنیاد پر چھوڑنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ اس بل کو بیلگاوی میں جاری اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جانا تھا ۔
اب معلوم ہوا ہے برسر اقتدار پارٹی سے وابستہ بعض اراکین اسمبلی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گاڑیاں کرایے پر چلاتے ہوئے اپنی روزی روٹی کمانے والے گاڑی کو راحت پہنچانے کے لئے لائے گئے اس بل کی وجہ سے اپوزیشن کو حکومت کے خلاف مورچہ کھولنے کا ہتھیار مل جائے گا ۔ جبکہ کابینہ میں اس مجوزہ بل کو منظوری ملتے ہی ہندوتوا وادی گروپس کی طرف سے ریاست کے بعض علاقوں میں احتجاج کیا جا چکا ہے ۔
لہٰذا کسی بھی تنازع سے بچنے کے لئے ریاستی حکومت نے اس بل کی پیشی کے سلسلے میں اپنی قدم پیچھے ہٹا لیے ہیں اور اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بلس کے ایجنڈے سے اسے بل کو ہٹا دیا ہے ۔