ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / 2022 کے بعد اقلیتی طلبہ کے لیے نئی مرکزی اسکالرشپس کا اجرا بند، پارلیمنٹ میں حکومت کا بیان

2022 کے بعد اقلیتی طلبہ کے لیے نئی مرکزی اسکالرشپس کا اجرا بند، پارلیمنٹ میں حکومت کا بیان

Thu, 30 Jul 2026 17:34:37    S O News

نئی دہلی، 30/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو مطلع کیا ہے کہ ۲۳۔۲۰۲۲ء تعلیمی سال کے بعد سے اقلیتی برادریوں کے طلبہ کے لیے تین مرکزی اسکالرشپ اسکیموں اور مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ (MANF) کے تحت کسی نئے امیدوار کو شامل نہیں کیا گیا۔ حکومت نے اس فیصلے کو اقلیتی فلاح و بہبود کی ترجیحات میں تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب زیادہ زور بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعلیم، ہنرمندی، کاروباری مواقع اور مالی شمولیت پر دیا جا رہا ہے۔ یہ معلومات اقلیتی امور کی وزارت کی جانب سے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی گئیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ پری میٹرک اسکالرشپ، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ، میرٹ کم مینز اسکالرشپ اور مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ (MANF) کے تحت ۲۳۔۲۰۲۲ء کے بعد کوئی نئی منظوری یا نیا داخلہ نہیں دیا گیا۔ البتہ جن طلبہ کو اس سے پہلے منظوری مل چکی تھی، انہیں اسکیم کے قواعد کے مطابق مقررہ مدت تک وظیفہ ملتا رہا۔

حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ۱۳۔۲۰۱۲ء سے ۲۲۔۲۰۲۱ء کے درمیان ان اسکیموں کے تحت ۶۹ء۶؍ کروڑ سے زیادہ اسکالرشپس دی گئیں، جن پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ حکومت کے مطابق ان پروگراموں نے ایک دہائی تک اقلیتی طلبہ کی تعلیمی معاونت میں اہم کردار ادا کیا۔ پارلیمانی جواب میں حکومت نے واضح کیا کہ موجودہ پالیسی کے تحت اقلیتی برادریوں کی ترقی کے لیے وسائل کو دیگر شعبوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان میں پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم (PMJVK) کے تحت تعلیمی و سماجی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سیکھو اور کماؤ (Seekho Aur Kamao) کے ذریعے ہنرمندی کی تربیت، استاد (USTTAD) کے تحت روایتی فنون اور دستکاری کا فروغ، ہماری دھروہر کے ذریعے ثقافتی ورثے کا تحفظ، نئی منزل اور دیگر روزگار پر مبنی پروگرام شامل ہیں۔ حکومت نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد اقلیتی برادریوں کو زیادہ پائیدار معاشی مواقع فراہم کرنا ہے۔

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اقلیتی برادریوں کے لیے قرض، خود روزگار، کاروباری معاونت، ہنرمندی کی تربیت اور انفراسٹرکچر سے متعلق مختلف پروگرام بدستور جاری ہیں، جن کے ذریعے معاشی خود کفالت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ بھی ۲۳۔۲۰۲۲ء سے نئے درخواست گزاروں کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ اس وقت حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس اسکیم کے فوائد دیگر قومی فیلوشپ پروگراموں سے ملتے جلتے ہیں، اس لیے اس میں نئی منظوری روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں اور بعض اقلیتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے لاکھوں معاشی طور پر کمزور طلبہ کو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملتی تھی، اس لیے نئی منظوری بند ہونے سے غریب طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکمت عملی کا مقصد صرف مالی امداد دینے کے بجائے اقلیتی برادریوں کے لیے طویل مدتی معاشی اور تعلیمی ڈھانچہ مضبوط کرنا ہے۔

پارلیمنٹ میں دیے گئے تازہ جواب کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ ۲۳۔۲۰۲۲ء کے بعد سے ان چار مرکزی اسکیموں کے تحت کوئی نیا فائدہ اٹھانے والا شامل نہیں کیا گیا ، جبکہ حکومت نے اپنی فلاحی ترجیحات کو اسکالرشپس سے ہٹا کر بنیادی ڈھانچے، ہنرمندی، کاروباری مواقع اور مالی شمولیت پر مرکوز رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ 


Share: