کنداپور، 12/ اپریل (ایس او نیوز) اگلے تعلیمی سال سے کیرالہ کے طرز پر کرناٹکا کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے ساتھ اب مصنوعی ذہانت والے روبو ٹیچرز کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے اور ریاست میں پہلی مرتبہ کنداپور تعلقہ کے ونڈسے گاوں میں ایک لیڈی اے آئی روبو ٹیچر کا تجربہ شروع ہونے جا رہا ہے ۔ اور یہ تجربہ کامیاب ہونے کی صورت میں ریاست بھر کے سرکاری اسکولوں میں اس کا استعمال کیا جانا طے ہے ۔
اس خبر کو جہاں تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر اور جدید تر بنانے کی طرف ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے وہیں پر انسانی وسائل کے زمرے میں آنے والے ٹیچروں کے لئے اسے ایک بری خبر مانا جا رہا ہے ۔ کیونکہ اس وقت تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ اور روزگار کے متلاشی تربیت یافتہ ہزاروں اساتذہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں بھرتی کے انتظار میں دن کاٹ رہے ہیں اور ہزاروں اساتذہ باضابطہ تقرری نہ ہونے کی صورت میں 'مہمان ٹیچر' کے زمرے میں ہی روزگار حاصل کرنے کی فکر میں سرگرداں ہیں ۔ ایسے میں اب اگر سرکاری اسکولوں میں اے آئی روبوٹک ٹیچرز کا سہارا لیا جاتا ہے تو پھر انسانی وسائل کے زمرے میں آنے والے ٹیچرز کے لئے ایک بڑا بحران پیدا ہونا اور پیشہ تدریس میں ان کے لئے گنجائش ختم ہو جانا یقینی بات ہے ۔
خیال رہے کہ سال 2024 میں ملک میں پہلی مرتبہ کیرالہ کے تھیرواننت پورم میں واقع کے ٹی سی ٹی ہائر پرائمری اسکول میں اے آئی ٹیچر کا استعمال کیا گیا تھا ۔ اب کرناٹکا میں اگلے تعلیمی سال سے کنداپور کے ونڈسے سرکاری اسکول میں ایل کے جی سے ایس ایس ایل سی کلاس تک مصنوعی ذہانت(اے آئی) کا مضمون پڑھانے کے لئے اے آئی روبوٹک ٹیچر 'آئریس' کو متعارف کیا جا رہا ہے ۔
اے آئی ٹیچر 'آئریس' کو 'اٹل ٹنکرنگ لیاب' منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہے ۔ اس کے اندر کنڑا، انگلش، ہندی سمیت 20 زبانوں کے علاوہ تمام روایتی مضامین پڑھانےاور سوال و جواب سمجھانے کے قابل بنایا گیا ہے ۔ ہر طالب علم کو براہ راست کسی بھی مضمون پڑھانے اور نوٹس دینے کے ساتھ تعلیم سے متعلقہ کسی بھی سوال کا جواب دینے کی صلاحیت اس کے اندر رکھی گئی ہے ۔ بچوں کے اسکول میں داخل ہوتے ہی ' آئریس' کی طرف سے ان سے ہاتھ ملا کر استقبال کیا جاتا ہے ۔
'آئریس' نامی اس اے آئی ٹیچر کو تیار کرنے پر 3.5 لاکھ روپوں کی لاگت آئی ہے جسے ونڈسے اسکول کے سابق طالب علموں اور عطیہ دہندگان نے پورا کیا ہے ۔ اس اسکول کو شری موکامبیکا چیریٹیبل ٹرسٹ نے گود لیا ہے اور اس کی ترقی کے لئے سابق طلبہ پوری طرح اشتراک و تعاون کر رہے ہیں ۔