بنگلورو ، 2/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعلیٰ کرناٹک سدارامیا کی صدارت میں ’’اندِرا فوڈ کِٹ‘‘ (انٹیگریٹڈ نیوٹریشن اینڈ ڈایٹری انشیویٹو۔ غار انا بھاگیہ بنیفیشریز ) اسکیم کے نفاذ کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کی تفصیلات، اخراجات اور تقسیم کے انتظامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ انا بھاگیہ یوجنا کے تحت فی فرد اضافی 5 کلو چاول کی جگہ اب اندِرا فوڈ کِٹ فراہم کی جائے گی، جس کا فیصلہ کابینہ پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ اس کِٹ میں چاول کے متبادل کے طور پر تُوّردال (تُوَر دال)، سورج مکھی کا تیل، شکر اور نمک شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہر ماہ 1,25,08,262 اندِرا فوڈ کِٹس کی ضرورت ہوگی۔
اسکیم پر ہر ماہ 466 کروڑ روپے کے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مجموعی ماہانہ ضرورت میں 18,628 میٹرک ٹن تُوور دال 12,419 میٹرک ٹن سورج مکھی کا تیل، شکر اور نمک (ہر ایک) درکار ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ کِٹ میں زیادہ سے زیادہ تُوور دال شامل کی جائے تاکہ غذائیت کی سطح بلند رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خریداری کا عمل نافیڈ ، این سی سی ایف جیسی مرکزی سپلائی ایجنسیوں کے ذریعے یا کے ٹی ٹی پی قواعد کے مطابق شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے۔
وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ سامان کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔وزن اور پیمائش میں کمی بیشی ہرگز نہ ہو۔اسکیم کو شفاف انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ کوئی شکایت پیدا نہ ہو۔کِٹ کی تقسیم کا جدید نظام اپنایا جائے گا ،جس کے تحت ہر راشن دُکان میں کیو آر کوڈ اسکین کرنے والا نظام نصب کیا جائے گا، جس کے ذریعے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے مستحقین تک کِٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ فراہم شدہ فوڈ کِٹس کو نِگم کے گوداموں اور ہول سیل ڈپوؤں کے ذریعہ ہر ماہ کی 10 تاریخ تک تمام راشن دکانوں تک پہنچایا جائے گا۔
اجلاس میں وزیر برائے خوراک و شہری رسد کے ایچ۔ ایچ. منی اپا، وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیر احمد، ایڈیشنل چیف سیکریٹری انجُم پرویز سمیت کئی اعلیٰ افسران موجود تھے۔