ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / اسرائیل کا ایران کی عسکری قیادت اور جوہری تنصیبات پر بڑا حملہ؛ چھ اعلیٰ فوجی کمانڈر اور سائنسدان شہید، تہران سمیت کئی شہروں میں افراتفری

اسرائیل کا ایران کی عسکری قیادت اور جوہری تنصیبات پر بڑا حملہ؛ چھ اعلیٰ فوجی کمانڈر اور سائنسدان شہید، تہران سمیت کئی شہروں میں افراتفری

Sat, 14 Jun 2025 02:16:11    S O News

تہران، 13 جون (ایس او نیوز) — نہتے فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کے بعد اب اسرائیل نے ایران کی عسکری قیادت اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا فضائی حملہ کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی نئی بلندیوں پر پہنچ گئی ہے۔ متعدد ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں ایران کے چھ اعلیٰ فوجی کمانڈر اور جوہری پروگرام سے وابستہ چھ سائنسدان شہید ہو گئے ہیں، جبکہ 87 عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق، اسرائیل نے جمعرات کی رات اور جمعہ کو مسلسل کئی حملے کیے، جن میں 200 سے زائد جنگی طیاروں اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان حملوں میں ایران کی چار نیوکلیئر تنصیبات بھی نشانہ بنائی گئیں، تاہم اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے IAEA نے نطنز اور بوشہر کی تنصیبات میں کسی قسم کی تابکاری کے اخراج کی تردید کی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے فوجی سربراہ جنرل محمد باقری، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی، اور جوہری سائنسدانوں عبدالرحیم منوچہر، احمدرضا زلفغری، سید امیرحسین فغیحی، مہدی تہرانچی، متلبی زادہ، اور فریدون عباسی کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ یہ تمام افراد ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے اہم ستون سمجھے جاتے تھے۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تہران سمیت کئی شہروں میں شدید افراتفری، خوف و ہراس اور عوامی بے چینی دیکھنے میں آئی۔ عالمی فضائی ٹریکنگ ایپس کے مطابق، ایران اور اسرائیل دونوں نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی پروازیں متبادل راستوں پر منتقل ہو گئی ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ صرف ابتدا ہے"، جبکہ برطانیہ، فرانس، اور جرمنی جیسے یورپی ممالک نے بھی اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ملیشیا اور انڈونیشیا سمیت کئی مسلم ممالک نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "صیہونی حکومت نے ہمارے ملک پر حملہ کر کے اپنی تباہی کا راستہ چُن لیا ہے۔ انہیں اس مجرمانہ عمل کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ ہمارے سائنسدان اور کمانڈر شہید ہوئے ہیں، لیکن ان کے جانشین فوری طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔"

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ "ایران کے خلاف آپریشن جتنے دن بھی درکار ہوں، جاری رہے گا۔ یہ ہماری قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔"

ایرانی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی حملے کے چند گھنٹوں کے اندر ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد ڈرونز اور بیلسٹک میزائل اسرائیل کی جانب داغے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے تصدیق کی ہے کہ ڈرونز کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ دارالحکومت تل ابیب، حیفہ، اور دیگر بڑے شہروں میں زیرِ زمین اسپتال کھول دیے گئے ہیں، جبکہ شہری ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے بازاروں میں جمع ہو رہے ہیں۔ اسرائیل نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ادھر عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور دیگر ادارے اس سنگین صورتحال پر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر جا سکتا ہے۔


Share: