غزہ، 2/ جون (ایس او نیوز) — اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر جاری ظلم و تشدد کی نئی لہر میں، اتوار کے روز جنوبی غزہ کے شہر رفح میں امدادی اشیاء کے حصول کے دوران ایک امدادی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے۔ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب سینکڑوں فلسطینی غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے ذریعے تقسیم کی جانے والی غذائی امداد کے حصول کے لیے جمع تھے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی عینی شاہدین اور طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے تل السلطان کے علاقے میں واقع امدادی مرکز پر اچانک گولہ باری کی اور الہشاش کے مقام پر شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ محمد المغیر، فلسطینی سول ایمرجنسی سروس کے اہلکار، کے مطابق ابتدائی طور پر 10 افراد کی شہادت اور 50 کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی، تاہم بعد ازاں غزہ کی وزارتِ صحت نے ہلاکتوں کی تعداد بڑھا کر 31 اور زخمیوں کی تعداد 169 سے زائد بتائی۔
ناصر اسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں 28 شہداء کی لاشیں اور درجنوں زخمیوں کو لایا گیا، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ اُس روز رفح کے اسپتال میں زخمیوں کی غیر معمولی تعداد لائی گئی۔
اس واقعہ کی ویڈیوز میں دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جن میں زخمیوں کو خون میں لت پت حالت میں اُٹھایا جا رہا ہے، اور کئی لاشیں اسپتال کے فرش پر پڑی ہوئی ہیں۔ ایک بچہ اقوام متحدہ کے اسکول کی یونیفارم میں دکھائی دیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ متاثرہ افراد عام شہری اور معصوم بچے تھے۔
اسرائیلی فوج کی تردید
اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے واقعہ کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ المواسی کے علاقے میں کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق، یہ علاقہ "انسانی ہمدردی زون" قرار دیا گیا ہے، جہاں حملہ اسرائیلی پالیسی کے منافی ہوگا۔ تاہم زمینی شواہد، ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات اسرائیلی مؤقف کی نفی کرتے ہیں۔
GHF کی متنازع امدادی پالیسی
GHF، جو کہ ایک امریکی تنظیم ہے اور فروری 2025 میں قائم کی گئی، کو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے انسانی امدادی نظام کی جگہ لینا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز، اور دیگر عالمی اداروں نے GHF کے طریقہ کار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جسے وہ انسانی اصولوں کے خلاف اور "موت کا پھندہ" قرار دے چکے ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین
غزہ میں کئی ماہ سے جاری محاصرے کے باعث خوراک، پانی، دوا اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت ہے۔ امدادی مراکز پر حملوں نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ غزہ کے شہری کئی ماہ کی بھوک اور اپنے بچوں کی فاقہ کشی کے باعث خطرات مول لے کر امداد حاصل کرنے آتے ہیں، لیکن انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمیوں کو شدید قلت کا شکار اسپتالوں میں لایا جاتا ہے جہاں نہ دوا ہے، نہ سہولت۔
سیاسی تناظر اور جنگ بندی کی کوششیں
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا ہے جب مصر اور قطر کی ثالثی سے جاری جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ حماس کے مطابق امریکی حمایت یافتہ مجوزہ معاہدہ ان کے بنیادی مطالبات، جیسے مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء، پورا نہیں کرتا۔
عالمی مطالبات اور ردعمل
رفح میں امدادی مرکز پر حملے نے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں نے آزادانہ تحقیقات اور غزہ میں امداد کی بلا رکاوٹ، محفوظ فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطینی عوام عالمی برادری سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرے اور غزہ کے محصور شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائے۔