بنگلورو، 9 نومبر (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ کنکا داس صرف ایک بھکت نہیں تھے بلکہ وہ ایک عظیم فلسفی، سماجی مصلح اور انسانیت کے علمبردار تھے جنہوں نے مساوات اور بھائی چارے کا پیغام عام کیا۔ وہ ہفتہ کو بنگلورو کے لیجسلیچرز بھون کے احاطے میں واقع کنکا داس کے مجسمے پر پھول نذر کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کنکا داس جینتی کو عقیدت و احترام کے ساتھ پورے کرناٹک میں منارہی ہے تاکہ ان کے انسان دوستی کے پیغام کو فروغ دیا جا سکے۔ سدارامیا نے کہا کہ کنکا داس نے اپنی زندگی اور گیتوں کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ تمام انسان برابر ہیں، اور یہی ان کے فلسفے کی بنیاد تھی۔
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نے شکر کارخانوں کے مالکان اور کسان نمائندوں کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد گنے کی نئی قیمت فی ٹن 3300 روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون میں جب افسران نے 3200 روپے فی ٹن کی سفارش کی تھی تو کارخانہ داروں نے اسے قبول نہیں کیا تھا، لیکن اب باہمی اتفاق سے نیا نرخ طے پایا ہے۔
سدارامیا نے وضاحت کی کہ 50 روپے فی ٹن کارخانہ دار ادا کریں گے جبکہ حکومت کی طرف سے 50 روپے ترغیبی بونس کے طور پر دیے جائیں گے۔ اگر گنے کی ریکوری 10.25 فیصد ہے تو کسانوں کو 3100 + 100 روپے اور اگر ریکوری 11.25 فیصد ہے تو 3200 + 100 روپے، یعنی مجموعی طور پر 3300 روپے فی ٹن کی ادائیگی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں حکومت جلد ہی باضابطہ حکم نامہ جاری کرے گی، اور وزیر شیوآنند پاٹل اس کا اعلان کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کسانوں اور صنعتکاروں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے تاکہ دیگر مسائل پر بھی جامع تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
دوسری جانب، پراپن اگراہارا جیل میں بعض قیدیوں کو شاہانہ سہولتیں فراہم کیے جانے کے حوالے سے وائرل ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’قوانین کے خلاف کسی کو خصوصی سہولت نہیں دی جا سکتی، اور اگر شکایات درست پائی گئیں تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘