بنگلورو/نئی دہلی، 18/نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیرِ اعلیٰ سدارامیا آج نئی دہلی میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور ریاست کے دیرینہ مسائل اور زیر التواء مطالبات سے متعلق ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔ وزیرِ اعلیٰ نے اس ملاقات میں رائچور میں ایمس کے قیام، گنے کی قیمت کے لیے پائیدار نظام، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے 2136 کروڑ روپے کے معاوضے، اور ریاست کی مختلف آبی و آبپاشی اسکیموں کے لیے ضروری منظوریوں کی جلد فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ کرناٹک کی کئی اہم آبپاشی اور پینے کے پانی کی اسکیمیں مرکزی منظوریوں کے انتظار میں رکی ہوئی ہیں، جن کے باعث بڑے علاقوں میں ترقیاتی کام متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی جل کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ ’متوازی باندھ‘ اسکیم سمیت زیر التواء منصوبوں کے لیے ضروری اجازتیں فوری طور پر جاری کی جائیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی یاددہانی کرائی کہ کرشنا واٹر ڈسپیوٹ ٹریبیونل–2 سے متعلق گزٹ نوٹیفکیشن گزشتہ ایک دہائی سے التواء کا شکار ہے، جس کے سبب اہم منصوبے تعطل میں ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے مرکز کے بجٹ 2023-24 میں اعلان کردہ بھدرا اپر کینال پراجیکٹ کے لیے 5300 کروڑ روپے کی رقم جلد جاری کرنے کی بھی درخواست کی۔ کلسا–بنڈوری پراجیکٹ کے سلسلے میں ہبلی–دھارواڑ خطے کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے جنگلات اور ماحولیات کے شعبے سے متعلق منظوریوں کی جلد فراہمی کا مطالبہ بھی یادداشت میں شامل کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے ریاست میں رواں سال ہونے والی شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 14.5 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی تباہ ہوئی ہے اور تقریباً 19 لاکھ کسان براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں مکانات، سڑکیں اور سرکاری تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این ڈی آر ایف کے تحت دو الگ الگ درخواستیں پیش کی جاچکی ہیں، جن میں کسانوں کے لیے ’ان پٹ سبسڈی‘ کی مد میں 614.9 کروڑ روپے اور تباہ شدہ سرکاری ڈھانچوں کی مرمت و باز تعمیر کے لیے 1521.67 کروڑ روپے جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
جَل جیون مشن کے سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ 2025-26 تک ریاست کو دیے جانے والے مرکزی حصے میں سے ابھی تک 13,004.63 کروڑ روپے جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ سال 2024-25 کے لیے مقررہ 3804.41 کروڑ میں سے محض 570.66 کروڑ روپے ہی ریاست کو موصول ہوئے ہیں، جبکہ ریاستی حکومت خود 7045.64 کروڑ روپے خرچ کرچکی ہے تاکہ اسکیم کے کام متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2025-26 کے لیے مرکز سے کوئی رقم جاری نہیں کی گئی، جس کے باوجود ریاست نے 1500 کروڑ روپے پیشگی خرچ کرکے منصوبے کو جاری رکھا ہے۔ اس وقت 1700 کروڑ روپے کے بل ادائیگی کے منتظر ہیں اور 2600 کروڑ روپے کے مزید بل جمع ہونے والے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے وزیرِ اعظم سے اپیل کی کہ گاؤں کے عوام کو صاف پینے کا پانی فراہم کرنے والی اس اہم مرکزی اسکیم کی بروقت تکمیل کے لیے کرناٹک کا بقایا حصہ فوری طور پر جاری کیا جائے۔گنے کے کسانوں کے مسئلے پر وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ شوگر ملیں موجودہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) یعنی 31 روپے فی کلو کے مطابق ادائیگی کی پوزیشن میں نہیں ہیں، جس کے باعث کسانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بحران کے مستقل حل کے لیے شکر کے MSP میں فوری ترمیم، کرناٹک کے ڈسٹلریز سے ایتھانول کی خرید میں اضافہ، اور ریاستوں کو گنے کی قیمت مقرر کرنے یا منظوری دینے کا اختیار فراہم کرنے والی مرکزی نوٹیفکیشن کے اجرا کی سفارش کی۔
رائچور میں ایمس کے قیام کے مطالبے کو دہراتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ کل یان کرناٹک خطے کا یہ ضلع صحت، تعلیم اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے پسماندہ ہے، اور یہاں دلت اور پسماندہ طبقات کی بڑی آبادی کو معیاری طبی سہولتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست نے ایمس کے قیام کے لیے تفصیلی منصوبہ رپورٹ مرکزی وزارتِ صحت کو پہلے ہی بھیج دی ہے، اور ضروری زمین، رسائی اور مقامی انتظامی تعاون سمیت تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے وزیرِ اعظم سے اپیل کی کہ وہ ریاست کے ان جائز مطالبات کو فوری منظوری دے کر کرناٹک کے عوام کی دیرینہ مشکلات کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔