بنگلورو ، 15/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے جمعہ (14 نومبر) کو اعلان کیا کہ گنے سے بھرے ٹریکٹروں اورٹرالیوں میں لگی آگ کے سلسلے میں مکمل تحقیقات کرائی جائے گی، تاکہ اس افسوسناک واقعہ میں ملوث عناصر کی نشاندہی کی جا سکے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ واقعہ جمعرات (13 نومبر) کو اس وقت پیش آیا جب کسان اپنی فصل کے لیے 3500 روپے فی ٹن قیمت مقرر کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کر رہے تھے۔
باگل کوٹ کے کچھ حصوں میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب شرپسندوں نے ربکوی بنہٹی تعلقہ میں ایک فیکٹری کی طرف جانے والے گنے سے لدے ٹریکٹروں و ٹرالیوں میں مبینہ طور پر آگ لگا دی۔ سدارمیا نے کہا کہ ’’تقریباً تمام کسانوں نے گنے کی خرید قیمت 3300 روپے فی ٹن قبول کر لی ہے، لیکن صرف مدھول کے کسان ہی اس سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں اور ان سے بات چیت کی جا رہی ہے۔‘‘
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے کہا کہ حکومت آتشزدگی کے واقعہ کی مکمل تحقیقات کرائے گی۔ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ’’کسانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے آگ نہیں لگائی۔ معاملے کی تحقیقات کی جائے گی اور قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ احتجاج سیاست سے متاثر تھا تو وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’اشتعال انگیزی ضرور ہوئی ہوگی۔ بی جے پی کے پاس اور کوئی کام نہیں ہے اور لوگوں کو اکسانا ہی ان کا کام ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گنے کی 3300 روپے فی ٹن قیمت خرید قبول کریں اور اپنا احتجاج ختم کریں۔ اس واقعے کے بعد، باگل کوٹ کے ڈپٹی کمشنر نے جمعرات کو جمکھنڈی، مدھول اور ربکاوی-بنہٹی تعلقہ میں حکم امتناعی نافذ کر دیا، جس میں انڈین سول سیفٹی کوڈ (بی این ایس ایس) 2023 کی دفعہ 163 کا اطلاق کیا گیا۔ اس حکم کے تحت 13 نومبر کی رات 8 بجے سے 16 نومبر کی صبح 8 بجے تک احتجاج، ہڑتال اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
افسران نے بتایا کہ گنے کے کسان قیمتوں کے تعین اور دیگر مطالبات کو لے کر 7 نومبر سے پورے ضلع میں احتجاج کر رہے ہیں اور سڑکیں بلاک کر رہے ہیں۔ انہوں نے 13 نومبر کو مہلنگ پورہ پولیس اسٹیشن کے تحت گوداوری (سمیر واڑی) شوگر فیکٹری کا بھی گھیراؤ کیا تھا۔