بنگلورو، 15/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو ’’جدید ہندوستان کا معمار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی تعمیر، صنعتوں کی بنیاد، زراعت، آبپاشی نظام اور سائنسی ترقی کے پیچھے نہرو کی دوراندیشی کارفرما رہی ہے۔ وہ آج ودھان سودا کے مشرقی صحن میں نہرو جی کے یومِ پیدائش کے موقع پر ان کے مجسمے پر گلدستہ نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
سدارامیا نے کہا کہ نہرو بچوں سے بے حد محبت رکھتے تھے۔ اسی لیے ان ہی کے یومِ پیدائش کو یومِ اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں اور نہرو جی نے انہیں ہمیشہ علم، سائنسی شعور اور روشن خیالی کا پیامبر سمجھا۔ اسی محبت کے باعث بچے انہیں پیار سے چاچا نہرو کہتے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ نہرو نے طالب العلمی کے دور ہی میں قوم پرستی اور آزادی کی تڑپ کو اپنے اندر جگا لیا تھا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مجموعی طور پر نو سال سے زائد عرصہ جیل کی سختیاں برداشت کیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے وقت ملک کا بجٹ محض 197 کروڑ روپے تھا، لیکن چند ہی برسوں میں نہرو کی پالیسیوں نے ملک کی معیشت کو مضبوط خطوط پر استوار کر دیا۔
سدارامیا نے کہا کہ نہرو نے زراعت، آبپاشی نظام، صنعتوں، ٹیکنالوجی اور پانچ سالہ منصوبوں کے ذریعے ملک کی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی۔ آج ملک میں ڈیم، بڑی صنعتیں، زرعی خود مختاری اور سائنسی ادارے انہی کی سوچ کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ نہرو سترہ سال تک مسلسل وزیر اعظم رہے اور ملک کو ترقی کی سمت لے گئے۔وزیر اعلیٰ نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ“بی جے پی نے آزادی کی جدوجہد میں کوئی حصہ نہیں لیا، مگر آج انہی گاندھی اور نہرو کی توہین کرنا ان کا معمول بن چکا ہے۔”انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس، بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا واحد ایجنڈا یہی ہے کہ آزادی کے ہیروز کو بدنام کیا جائے۔
باگل کوٹ میں گنے کے کھیتوں اور ٹریکٹروں کو آگ لگانے کے واقعہ پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ابتدائی بیانات کے مطابق کسان اس واقعے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس لیے حکومت نے مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے گنے کی قیمت 3300 روپے فی ٹن مقرر کی ہے اور امید ظاہر کی کہ مُدھول کے کسان اس نرخ کو قبول کرکے احتجاج ختم کریں گے۔
بہار انتخابات میں انڈیا اتحاد کی ناکامی پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی فیصلہ ہی سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے، اور اسے دل سے قبول کیا جانا چاہیے۔