ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / گنے کے کسانوں کو بڑا ریلیف: کرناٹک حکومت کا فی ٹن 3300 روپے کا نیا نرخ، وزیر اعلیٰ سدارامیا کا تاریخی فیصلہ

گنے کے کسانوں کو بڑا ریلیف: کرناٹک حکومت کا فی ٹن 3300 روپے کا نیا نرخ، وزیر اعلیٰ سدارامیا کا تاریخی فیصلہ

Sat, 08 Nov 2025 12:02:49    S O News

بنگلورو، 8؍ نومبر (ایس او نیوز / ایجنسی) گنے کے کاشتکاروں کے دیرینہ مطالبات اور مسلسل احتجاج کے بعد کرناٹک حکومت نے جمعہ کو ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے گنے کی قیمت میں اضافہ کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ودھان سودھا میں سات گھنٹے طویل میٹنگ کے بعد بتایا کہ حکومت نے کسانوں اور شوگر مل مالکان کے درمیان اتفاق رائے کے ساتھ فی ٹن گنے کے لیے 3300 روپے کا نیا نرخ طے کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ حکومت اور شوگر مل مالکان دونوں فی ٹن 50، 50 روپے اضافی دیں گے، جس کے نتیجے میں مجموعی نرخ 3300 روپے فی ٹن تک پہنچ گیا ہے۔ یہ رقم کٹائی اور نقل و حمل کے اخراجات کے علاوہ دی جائے گی۔ اس طرح یہ نرخ بیلگام ضلع انتظامیہ کے طے شدہ 3200 روپے سے100 روپے زیادہ ہوگا۔

سدارامیا نے کہا کہ یہ فیصلہ بیلگام میں احتجاج کر رہی کسان تنظیموں اور شوگر مل نمائندوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 81 شوگر فیکٹریاں کام کر رہی ہیں، جن میں 11 کوآپریٹیو اور ایک سرکاری فیکٹری شامل ہے، جبکہ باقی نجی شعبہ سے تعلق رکھتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے سبب گنے کے نرخوں سے متعلق کسانوں اور فیکٹری مالکان دونوں مشکلات میں مبتلا ہیں۔ اس لیے ریاستی حکومت ایک نمائندہ وفد کو جلددہلی روانہ کرے گی تاکہ مرکز سے ان مسائل کے حل پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

سدارامیا نے مزید بتایا کہ بیلگام، وجیاپور، باگلکوٹ، ہاویری اور گلبرگہ سمیت مختلف اضلاع میں کسان کئی دنوں سے ایف آر پی نرخوں میں اضافے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ حکومت نے اس احتجاج کو ختم کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات کیے اور بالآخر ایک متفقہ فیصلہ سامنے آیا۔

کابینہ کی سفارش کے مطابق، 11.25 فیصد ریکوری والے گنے کے لیے شوگر فیکٹریاں 3250 روپے ادا کریں گی جبکہ حکومت اپنی طرف سے 50 روپے مزید دے کر نرخ 3300 روپے فی ٹن مقرر کرے گی۔ اس فیصلے پر زیادہ تر فیکٹری مالکان نے اتفاق کیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسان تنظیمیں بھی اس سے مطمئن ہوں گی۔

وزیر اعلیٰ نے آخر میں کہا کہ حکومت گنے کے کاشتکاروں کے مسائل کے مستقل حل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے فیکٹری مالکان سے اپیل کی کہ وہ کسانوں کے مفاد میں تعاون کریں، اور کسانوں سے درخواست کی کہ وہ احتجاج ختم کر کے امن و امان برقرار رکھیں۔


Share: