منگلورو ، 7/ نومبر (ایس او نیوز) پانڈیشور پولیس اسٹیشن سے منسلک تین اہلکاروں کے خلاف ایک الیکٹریشین پر حملہ کرنے، اسے دھمکیاں دینے اور زبردستی 4,000 روپے وصول کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکاروں نے رات گئے مذکورہ شخص کو روک کر اس سے زبردستی رقم چھین لی ۔
بتایا جاتا ہے کہ وٹلا مدنور سے تعلق رکھنے والے اور فی الحال پانڈیشور کے شیوا نگر میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر روی راج نامی ایک الیکٹریشن نے اس ضمن میں پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے
شکایت کے مطابق روی راج کنکناڈی میں ایک نجی ادارے میں کام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ پولیس کی زیادتی کا پہلا واقعہ 25 اگست کو رات تقریباً 10 بجے پیش آیا، جب وہ نہرو میدان میں اپنی شام کی چہل قدمی مکمل کرنے کے بعد اپنے کرائے کے گھر واپس جا رہا تھا ۔ آر ٹی او (RTO) دفتر کے قریب، 'ہویسلا' گشتی گاڑی میں تین پولیس اہلکار وہاں پہنچے ۔ ان کی شناخت ڈرائیور ہیرانا بینی، اور پولیس اہلکاروں شیوراج اور اُوماناتھ کے طور پر ہوئی ہے، جو سب پانڈیشور پولیس اسٹیشن سے منسلک ہیں ۔
روی راج کا الزام ہے کہ ان اہلکاروں نے اس کو روکا، اس کے کندھے اور ٹانگ پر لاٹھی سے حملہ کیا ، اس کا موبائل فون چھین لیا اور فون کے کور میں رکھے 300 روپے زبردستی نکال لیے ۔ انہوں نے مبینہ طور پر اسے گندی اور توہین آمیز زبان میں گالیاں دیں اور جیل بھیجنے کی دھمکی دے کر وہاں سے چلے گئے ۔
دوبارہ27 اگست کو جب روی راج اسی جگہ چہل قدمی کر رہا تھا، تو ہیرانا بینی اور دیگر اہلکار مبینہ طور پر 'ہویسلا' گاڑی میں وہاں پہنچے ۔ انہوں نے اس کا موبائل فون، کرناٹک بینک اور یونین بینک کے دو اے ٹی ایم کارڈز، 1,000 روپے نقد اور اس کی دو پہیہ گاڑی کی چابی چھین لی ۔ انہوں نے اسے وہیں رکنے کی ہدایت کی اور وہاں سے چلے گئے ۔
رات تقریباً 11:30 بجے، یہ اہلکار مبینہ طور پر دوبارہ 'ہویسلا' گاڑی میں واپس آئے، اسے زبردستی گاڑی کے اندر بٹھایا اور مزید رقم کا مطالبہ کیا ۔ جب روی راج نے انہیں بتایا کہ اس کے پاس صرف اے ٹی ایم کارڈز ہیں، تو انہوں نے مبینہ طور پر اس کے موبائل فون کا پاس ورڈ حاصل کیا اور فون کے ذریعے اس کا بینک بیلنس چیک کیا ۔ اکاؤنٹ میں تقریباً 5,000 روپے موجود ہونے کا پتہ چلنے پر انہوں نے اس سے 2,000 روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔
انہوں نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر اس نے رقم ادا نہ کی تو وہ اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے جیل بھیج دیں گے ۔ راوی راج نے ان سے التجا کی اور وضاحت کی کہ یہ رقم اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے تھی اور وہ اتنی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ اس نے ان سے یہ درخواست بھی کی کہ اسے ہراساں نہ کیا جائے کیونکہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ مگر مبینہ طور پر وہ تینوں اہلکار اسے منگلا دیوی مندر کے قریب واقع ایس بی آئی کے اے ٹی ایم پر لے گئے اور اس سے رقم نکلوائی ۔ اس کے بعد اس سے کل 3,000 روپے لے لیے اور اسے وہیں چھوڑ دیا ۔
اس کے بعد 4 نومبر کو جب روی راج اپنی دو پہیہ گاڑی پر جا رہا تھا، تو ان اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کی گاڑی کی چابی چھین لی ۔ پھر اسی انداز میں اسے 'ہویسلا' گاڑی میں بٹھایا اور پانڈیشور میں واقع ایک مال تک لے گئے ۔ انہوں نے اس کا موبائل فون بھی لے لیا اور اسے ہدایت کی کہ وہ اسے واپس لینے کے لیے تھانے آ جائے ۔
روی راج کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے اسے بتایا کہ موبائل فون واپس حاصل کرنے کے لیے اسے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا ۔ بعد ازاں، جب ہیرانا، شیو راج اور اُوماناتھ نے مبینہ طور پر مسلسل پیسوں کا مطالبہ جاری رکھا تو اس نے کہا کہ وہ رقم ادا کرنے سے قاصر ہے اور اس کے بجائے تھانے آنے کے لیے تیار ہے ۔
اسی رات مبینہ طور پر ان پولیس اہلکاروں نے روی راج کو اس کے موبائل فون پر کال کی اور اسے اپنی دو پہیہ گاڑی لے جانے کے لیے کہا ۔
روی راج نے ان تینوں پولیس اہلکاروں کے رویہ سے تنگ آ کر ان کے خلاف مبینہ تشدد، دھمکیوں، ہراسانی اور جبری وصولی کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کے لیے شکایت درج کرائی ہے ۔