بینگلورو، 5 / نومبر (ایس او نیوز) اتر کنڑا ضلع میں ہوناور کے ٹونکا میں تجارتی بندرگاہ کی تعمیر اور اس کی وجہ سے ماحولیات اور مقامی باشندوں کو ہونے والی دشواریوں سے آگاہ کرنے کے لئے مشہور جہد کار میدھا پاٹکر اور پالیسی و منصوبہ بندی کمیشن ڈپٹی چیرمین بی آر پاٹل کی قیادت میں بندرگاہ مخالف کمیٹی کے ایک وفد نے ریاستی وزیر اعلیٰ سدا رامیا سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
بتایا جاتا ہے کہ بندرگاہ مخالف کمیٹی کے اس وفد نے وزیر اعلیٰ سے اس منصوبے کو ترک کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان اور ماہی گیروں کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کا ازالہ کریں ۔ اس موقع پر ایک آزاد کمیٹی کے ذریعے کی گئی تحقیقات کی رپورٹ اور مختلف مطالبات کے ساتھ ایک میمورنڈم وزیر اعلیٰ کو پیش کیا گیا ۔ اس کے بعد وفد نے چیف سیکریٹری سے بھی ملاقات کی اور اس مسئلے کے تعلق سے تمام احوال ان کے سامنے رکھا ۔
معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو پیش کیے گئے میمورنڈم میں اس مجوزہ بندرگاہ کی تعمیر اور ساگر مالا منصوبے کے تحت وہاں ہو رہی سڑک کی تعمیر کے تعلق سے مختلف مراحل میں پیش آئے ہوئے واقعات، مشکلات، تحویل اراضی معاملے میں ہوئی غیر مجازی کارروائی، پرامن احتجاجی مظاہرین کے خلاف پولیس کی ظالمانہ کارروائی اور آئندہ درپیش مضر اثرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔
اس وفد میں بندرگاہ مخالف کمیٹی کے صدر راجیش گووندا تانڈیل، محمد کویا، ریحانہ شیخ، ایڈوکیٹ سمپریتا اور دیگر اراکین شامل تھے ۔