ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ذات پر مبنی مردم شماری مؤخر کرنے کی کوشش؟ کانگریس کا پی ایم مودی پر بڑا الزام

ذات پر مبنی مردم شماری مؤخر کرنے کی کوشش؟ کانگریس کا پی ایم مودی پر بڑا الزام

Thu, 30 Apr 2026 19:50:25    S O News

نئی دہلی ، 30/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس نے آج اپنے ایک بیان میں اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ حکومت کے ذریعہ ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیے ایک سال مکمل ہو چکا ہے، لیکن اب تک یہ صاف نہیں ہے کہ یہ عمل کس طرح پورا کیا جائے گا۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی ذات پر مبنی سروے کو ملتوی کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے کچھ بھی خاکہ سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے، جس میں بتایا ہے کہ آج ہی کے دن ایک سال قبل مودی حکومت نے آئندہ مردم شماری میں ذات پر مبنی شماری کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم کے ڈرامائی یو-ٹرن کی ٹائم لائن یہ ہے کہ 21 جولائی 2021 کو لوک سبھا میں ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ حکومت نے پالیسی کے طور پر ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد 21 ستمبر 2021 کو مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے عدالت کی کوئی بھی ہدایت حکومت کی پالیسی یا فیصلہ میں مداخلت کے برابر ہوگا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 16 اپریل 2023 کو کانگریس صدر کھڑگے نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر مردم شماری کے ساتھ ہی ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ 28 اپریل 2024 کو ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ اَربن نکسل سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس تبصرہ کے لیے وزیر اعظم کو کانگریس سے معافی مانگنی چاہیے اور ساتھ ہی ملک کی عوام کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ 30 اپریل 2025 کو ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کرتے وقت ان کی سوچ مبینہ اربن نکسل نظریہ سے کس طرح متاثر ہوئی۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنی بات واضح لفظوں میں پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’پورا ایک سال گزر چکا ہے، لیکن اب تک یہ صاف نہیں ہے کہ ذات پر مبنی شماری کیسے کی جائے گی۔ اپوزیشن پارٹیوں، ریاستی حکومتوں اور اس موضوع کے ماہرین سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کانگریس صدر کھڑگے نے 5 مئی 2025 کو اس معاملہ پر وزیر اعظم کو از سر نو خط لکھا تھا، لیکن اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ اس خط میں اٹھائے گئے ایشوز آج بھی بامعنی ہیں۔ جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں ختم ہوئے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے بعد یہ مزید واضح ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم ذات پر مبنی مردم شماری کو ملتوی کرنے کی منشا رکھتے ہیں۔


Share: