بنگلورو، 13/ نومبر ( ایس او نیوز /ایجنسی) دارالحکومت دہلی کے لال قلعہ علاقے میں پیش آئے کار بم دھما کے بعد مرکزی حکومت حرکت میں آگئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کل شام ایک ہنگامی سیکورٹی میٹنگ طلب کی گئی ، جس میں دھماکے تحقیقات ، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ دہشت گرد نیٹ ورک پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
دھما کے کے بعد سیاسی ہلچل بھی تیزہوگئی ہے۔ کانگریس کی جانب سے وزیر اعظم کے بھوٹان کے دورے پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ریاستی وزیر پرینک کھرگے نے ایک ٹویٹ میں طنز یہ انداز میں لکھا ؛ ان کی ڈیوٹی پہلے پوری ہونی چاہئے تھی ، یعنی ان کے دوست گوتم اڈانی کا سودا محفوظ ہونا چاہئے تھا۔
پرینک کھرگے نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا ، دہلی دھماکہ ۔ وزیر اعظم بھوٹان پہنچے ۔ معاہدے پر دستخط ۔ انہوں الزام لگایا کہ اڈانی پاور ڈروک گرین بھوٹان میں 6000 کروڑ روپئے کے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام کرے گی، اور یہ معاہدہ دھماکے کے دن ہی طے پایا۔
دوسری جانب بی جے پی نے کانگریس لیڈروں کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ایسے سنگین موقع پر سیاست کرنا شرمناک ہے۔ بی جے پی ترجمان نے الزام لگایا کہ کانگریس ہمیشہ دہشت گردوں کے تیئں نرم رویہ اختیار کرتی رہی ہے اور ماضی میں ککر بم دھما کے کے ملزم کو بھائی کہنے تک جا پہنچی تھی۔
اسی دوران کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اس بیان پر بھی تنازع کھڑا ہوگیا ہے کہ ’’ یہ نہیں معلوم کہ الیکشن کے دوران ہی بم کیوں پھٹتا ہے‘‘۔ بی جے پی نے اسے ’’غیر ذمہ دارانہ بیان ‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
پرینک کھر گے نے اپنے ایک اور تبصرے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر بھی حملہ کیا اور کہا ؛ کشمیر ، منی پور، دہلی، پلوامہ ، پہلگام ، اتر پردیش ۔ امت شاہ ہر جگہ ناکام ہیں، مگر کوئی ذمہ داری نہیں لیتے ۔
ادھر سکیورٹی ایجنسیاں دہلی دھماکے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ حملہ ممکنہ طور پر ’’سندھور آپریشن ‘‘ کے بدلے میں پاکستانی تنظیم جیش محمد کی ’’ وائٹ کالر دہشت گردی ‘‘ کا حصہ ہوسکتا ہے۔
حکومت نے دارالحکومت میں سیکورٹی مزید سخت کردی ہے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔