ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پنجاب کا مطلوب گینگسٹر گروندر عرف آفریدی ایتھوپیا سے گرفتار، 10 ماہ سے جاری تھی تلاش

پنجاب کا مطلوب گینگسٹر گروندر عرف آفریدی ایتھوپیا سے گرفتار، 10 ماہ سے جاری تھی تلاش

Sun, 08 Nov 2026 16:41:07    S O News
پنجاب کا مطلوب گینگسٹر گروندر عرف آفریدی ایتھوپیا سے گرفتار، 10 ماہ سے جاری تھی تلاش

چندی گڑھ، 8/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)پنجاب پولیس کو گینگسٹر نیٹورک کے خلاف بڑی کامیابی ملی ہے۔ پولیس کی اینٹی گینگسٹر ٹاسک فورس (اے جی ٹی ایف) نے مرکزی ایجنسیوں کی مدد سے ’ڈونی بال-پربھ داسووال گینگ‘ کے سرغنہ گروندر عرف آفریدی کو ایتھوپیا سے ہندوستان ڈی پورٹ کرایا ہے۔ اسے گرفتار کرنے کے لیے گزشتہ 10 ماہ سے بین الاقوامی سطح پر مہم چلائی جا رہی تھی۔ پنجاب پولیس نے اس کارروائی کو ’آپریشن شہید‘ کا نام دیا تھا۔

پنجاب پولیس کے ڈی جی پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ ’’اس مہم میں اے جی ٹی ایف کے ساتھ کاؤنٹر انٹیلی جنس پنجاب کی اوورسیز فیوجیٹو ٹریکنگ اینڈ ایکسٹراڈیشن سیل اور مرکزی ایجنسیاں بھی شامل تھیں۔ کئی ممالک میں خفیہ معلومات جمع کرنے، نگرانی کرنے اور ملزم کی لوکیشن کا سراغ لگانے کے بعد اسے ایتھوپیا سے ہندوستان لانے میں کامیابی ملی۔‘‘

پولیس کی ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ گروندر عرف آفریدی بیرون ملک رہ کر پنجاب میں ٹارگیٹ کلنگ، جبراً وصولی کے لیے فائرنگ اور منظم مجرمانہ سرگرمیوں کو چلا رہا تھا۔ اس کی گرفتاری میں مددگار اطلاع دینے والے شخص کے لیے پنجاب حکومت نے 5 لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس آپریشن کے تحت ایشیا، جنوبی امریکہ اور افریقہ کے کئی ممالک میں مسلسل خفیہ معلومات جمع کی گئیں اور نگرانی کی گئی۔ پنجاب پولیس نے اس بین الاقوامی کارروائی میں تعاون کے لیے وزارت خارجہ اور دیگر مرکزی ایجنسیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست میں گینگسٹر نیٹورک کے خاتمے، منظم جرائم کی روک تھام اور امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے مہم جاری رہے گی۔

اس سے قبل 3 نومبر کو پنجاب پولیس نے غیر قانونی اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے 3 الگ الگ نیٹورکس کا پردہ فاش کیا تھا۔ اس کارروائی میں 11 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے قبضے سے 12 غیر قانونی پستول، 2 ہینڈ گرینیڈ، 310.10 گرام ہیروئن اور 33 کارتوس برآمد کیے گئے تھے۔

ڈی جی پی کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق ابتدائی تفتیش میں پتہ چلا تھا کہ ملزمان بیرون ملک بیٹھے اپنے ہینڈلرز اور گینگسٹروں کے رابطے میں تھے۔ انہی کی مدد سے ڈرون کے ذریعے پنجاب میں غیر قانونی اسلحے اور منشیات کی کھیپ بھیجی جاتی تھی۔ بعد میں یہ سامان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد تک پہنچایا جاتا تھا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ ملزمان اسلحے کے زور پر لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے تھے۔ جبراً وصولی کے لیے گھروں اور دکانوں پر فائرنگ کر کے علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا تھا، تاکہ لوگ ڈر کر ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائیں۔


Share: