بنگلورو، 16؍اکتوبر (ایس او نیوز / ایجنسی):وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ اگر سماج میں حقیقی تبدیلی لانی ہے تو ضروری ہے کہ بدھ، بسوا اور ڈاکٹر بی۔آر۔امبیڈکر کے نظریات اور اصول زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔ وہ آج کرناٹک اسٹیٹ بھکشو سنگھ، بدھ سنگھ تنظیموں، امبیڈکر تنظیموں اور وِشومیتری بدھ وہار کے اشتراک سے مہاراجہ کالج میدان، میسور میں منعقدہ بین الاقوامی بدھ ثقافتی سنگم و باؤدھ مہا سمیلن کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اگر ہم مذہبی رواداری اور باہمی احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو ملک میں امن، عدم تشدد اور سچائی کو فروغ دینا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں عدم مساوات کی بڑی وجہ سب کے لیے مساوی مواقع کا فقدان ہے۔ اگر ہر شخص کو سماجی اور معاشی طاقت حاصل ہو تو ہی مساوات قائم ہو سکتی ہے، جیسا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا۔
سدارامیا نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے ایس سی/ایس ٹی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 42 ہزار کروڑ روپےمختص کیے ہیں۔ مساوی معاشرہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری کو معاشی طاقت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹھیکوں میں ریزرویشن متعارف کرایا ہے، اور اگرچہ سپریم کورٹ نے ترقی میں ریزرویشن کی اجازت نہیں دی، مگر ریاستی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے کر اس کی سفارشات کی بنیاد پر ترقی میں ریزرویشن نافذ کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ سماجی بیداری کے ساتھ اقتصادی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ہماری حکومت نے مختلف بھاگیہ اور گارنٹی اسکیمیں اسی مقصد کے تحت نافذ کی ہیں تاکہ محروم طبقات کو مالی استحکام حاصل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ’’شکتی یوجنا‘‘ کے تحت ہاسنامبا مندر میں درشن کے لیے آنے والے 9 لاکھ افراد میں سے 70 فیصد خواتین تھیں، جو اب آزادانہ طور پر عبادت گاہوں اور کام کی جگہوں پر جا سکتی ہیں۔ اس طرح خواتین خود کفیل ہو رہی ہیں۔ گارنٹی اسکیموں کے ذریعے ہر خاندان کو ماہانہ چار تا پانچ ہزار روپے کی مالی مدد حاصل ہو رہی ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ بدھ، بسوا اور امبیڈکر جیسے مصلحین نے سماجی برابری کے لیے جدوجہد کی، مگر بدقسمتی سے آج بھی ذات پات کی جڑیں سماج میں گہری ہیں۔ کچھ منواد نظریات رکھنے والے عناصر کی وجہ سے حقیقی تبدیلی نہیں آ سکی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر پریانک کھرگے نے عوامی مقامات پر مذہبی سرگرمیوں پر حد مقرر کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت کے چیف سکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمل ناڈو میں اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کریں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ سماجی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں ہمیشہ رہتی ہیں، لیکن توہمات اور قدامت پرستی کے خلاف قانون سازی ہماری حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کسی ایک ذات کے حامی نہیں تھے بلکہ وہ مساوات پر مبنی سماج کے خواہاں تھے۔ ان کا نعرہ ’’تعلیم، تنظیم اور جدوجہد‘‘ آج بھی تبدیلی کی کنجی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں شودر اور خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا تھا، مگر امبیڈکر نے تعلیم کے ذریعے سماج میں بیداری پیدا کی۔ وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ ایس سی پی / ٹی ایس پی قانون نافذ کرنے کا سہرا کانگریس حکومت کے سر ہے۔ آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کرناٹک کے علاوہ کسی اور ریاست نے اس قانون کو نافذ نہیں کیا۔
آخر میں سدارامیا نے کہا کہ ہر غریب کو معاشی طاقت فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے۔ ہمیں اپنی غلامانہ ذہنیت سے باہر نکل کر انسانیت کی بنیاد پر معاشرہ قائم کرنا ہوگا۔ ’’نفرت کا جواب محبت سے دینا‘‘ ہی بدھ اور بسوا کے اصولوں کا حقیقی پیغام ہے۔