نئی دہلی ،11/ اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی مکمل نظر ثانی کے بعد جمعہ کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کردی گئی ہے۔ حتمی فہرست میں 13کروڑ 39 لاکھ 84 ہزار 792 ووٹروں کی تعداد ہوگئی ہے۔ اس حتمی فہرست کی اشاعت کے ساتھ ہی ریاست کی سیاست میں بھی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ اس دوران عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔
اے اے پی لیڈر نے کہا کہ ڈرافٹ لسٹ بھی اتر پردیش کے ملازمین نے تیار کی اور اسمبلی کے لیے جو فہرست بنی وہ بھی اتر پردیش کے ملازمین نے تیار کی۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دونوں فہرستوں میں اتنا فرق کہاں سے آگیا۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ بلدیاتی اداروں اور گرام پنچایت کے ملاکر اگر 17 کروڑ ووٹ پنچایت کی فہرست میں ہیں تو آج یہ اسمبلی کی جو فہرست تیار ہوئی اس میں اتنے ووٹ کم کیسے ہوگئے۔ حکومت کو اس کا جواب دےنا چاہئے۔
سنجے سنگھ نے اس فہرست پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا اپوزیشن کے ووٹوں کو نشانہ بنا کر کاٹا گیا ہے۔ کیا نشانہ بناکر بورڈ کی نشاندہی کرکے ووٹ کاٹے گئے ہیں؟ آگے اس کی جانچ کرکے بتائیں گے۔ ہم لوگوں نے بھی کافی تحقیق کیا، کئی مسائل اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ووٹ بچانے کے حوالے سے میں نے پیدل یاترا بھی کی تھی۔ آج نشانہ بنا کر ووٹ کاٹے جارہے ہیں، یہ غلط ہے۔
ادھر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے۔ اکھلیش نے جمعہ کو لکھنؤ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کی طرف سے حتمی ووٹر لسٹ کا اعلان کرنے کے فوراً بعد سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر آئینی اداروں کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ موجودہ ووٹر لسٹ کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب بی جے پی مسائل پر پیچھے ہونے لگتی ہے تو وہ اداروں کی آڑ میں الیکشن لڑتی ہے۔