ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ایس آئی آر پر جماعتِ اسلامی ہند کا بنگلور میں اہم اجلاس، مسلم سمیت کئی پسماندہ طبقات کی نمائندگی میں کمی ہونے کا خدشہ

ایس آئی آر پر جماعتِ اسلامی ہند کا بنگلور میں اہم اجلاس، مسلم سمیت کئی پسماندہ طبقات کی نمائندگی میں کمی ہونے کا خدشہ

Tue, 21 Oct 2025 21:47:19    S O News
ایس آئی آر پر جماعتِ اسلامی ہند کا بنگلور میں اہم اجلاس، مسلم سمیت کئی پسماندہ طبقات کی نمائندگی میں کمی ہونے کا خدشہ

بینگلور 21/اکتوبر (ایس او نیوز): جماعتِ اسلامی ہند، کرناٹکا کے زیرِ اہتمام "Special Intensive Revision (SIR)" کے موضوع پر ایک اہم اجلاس  بینگلور کے دارالسلام  میں منعقد ہوا، جس میں سماج کے مختلف طبقات کے نمائندگان، سول سوسائٹی کے اراکین، اور انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔

 اجلاس کا آغاز مولانا وحیدالدین خاں عمری مدنی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا۔جماعت اسلامی ہند کے نیشنل  سیکریٹری ندیم خان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ایس آئی آر کا انتخابات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں، بلکہ یہ ایک ملک گیر مشق ہے جسے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل میں "ڈی لیمیٹیشن" یعنی انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی شامل ہے، جس کے نتیجے میں کئی پسماندہ طبقات خصوصاً مسلم کمیونٹی کی نمائندگی میں مزید کمی آسکتی ہے۔انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے لیے ضروری دستاویزات فراہم کرنا ملک کی بڑی آبادی کے لیے ممکن نہیں۔

 "ہمارے ملک میں صرف 8.7 فیصد لوگوں کے پاس پاسپورٹ ہے، اور کل محض 37 فیصد شہریوں کے پاس بنیادی دستاویزات موجود ہیں۔ ایسے میں اس عمل کے ذریعے لاکھوں لوگ ووٹر لسٹ سے باہر ہوسکتے ہیں۔"انہوں نے مزید مثال دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں حالیہ ایس آئی آر مہم کے دوران 68 لاکھ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر مہاجر مزدور، دلت، آدی واسی اور مسلمان شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف جمہوری اصولوں کے منافی ہے بلکہ شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔

اجلاس میں ایس آئی آر کے تناظر میں کرناٹکا کی زمینی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔  شرکاء کے مطابق، کرناٹکا میں یہ عمل خاص طور پر شہری و دیہی مسلم علاقوں، مہاجر مزدوروں، دلت اور آدی واسی برادریوں (خاص طور پر بلاہاری، میسور اور رائچور میں) اور ان خواتین کو زیادہ متاثر کرے گا جنہیں شادی یا ازدواجی حیثیت بدلنے کے بعد شناختی دستاویزات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

ڈاکٹر بلگامی محمد سعد، امیرِ حلقہ جماعتِ اسلامی ہند، کرناٹکا نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ "ایس آئی آر محض انتظامی مہم نہیں بلکہ شہری حقوق کا سوال بن چکا ہے۔" انہوں نے کیرالہ حکومت کے اس فیصلے کو سراہا جس میں ایس آئی آر کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے، اور کہا کہ "کرناٹکا حکومت پر بھی اسی طرح کا دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ عوامی مفاد اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح موقف اختیار کرے۔"

افتتاحی کلمات سیکریٹری حلقہ محمد یوسف کنی نے ادا کیے، جنہوں نے ایس آئی آر کے خدوخال، اس کے بہار میں اثرات، اور کرناٹکا کے لیے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔ اجلاس کے دوران مختلف مقررین نے اس عمل کو  ، بنیادی شہری اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف قرار دیا ۔اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام مذہبی و سماجی تنظیموں، تعلیمی اداروں، اور سول سوسائٹی گروپوں کو متحد ہو کر اس مسئلے کے خلاف عوامی آگاہی مہم چلانی چاہیے تاکہ کوئی بھی شہری اپنی شہریت یا ووٹ کے حق سے محروم نہ رہ جائے۔


Share: