بنگلورو، 12/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیراعلیٰ سدارامیا نے بنگلورو میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حالیہ تقریر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ اپنے وزیراعظم کے عہدے کی حیثیت سے بات کر رہے تھے یا ریاستی بی جے پی کے صدر اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر۔
اپنے تفصیلی بیان میں سدارامیا نے کہا کہ اگرچہ وزیراعظم نے ریاستی کانگریس حکومت کو نشانہ بنایا، لیکن ان کی تقریر میں مرکز کی اپنی حکومت کی ناکامیاں اور ریاست میں بی جے پی کی اندرونی کمزوریاں صاف جھلک رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے دوسروں پر الزام عائد کرنا مناسب نہیں۔
سادارامیا نے کہا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی اور اٹل بہاری واجپائی جیسے سابق وزرائے اعظم نے کبھی بھی سڑکوں کے سیاست دانوں کی طرح اپوزیشن پر ذاتی حملے نہیں کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی اپنی تقاریر کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے کے وقار، سنجیدگی اور جمہوری روایات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کو پانچ ٹریلین ڈالر معیشت بنانے اور غربت ختم کرنے کے دعوے کیے تھے، لیکن آج عوام سے سونا نہ خریدنے، پٹرول اور خوردنی تیل کم استعمال کرنے اور بیرونِ ملک سفر محدود رکھنے کی اپیل کی جا رہی ہے، جو معاشی کمزوری کی علامت ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے بڑھتی مہنگائی اور عوامی مشکلات کے لیے مرکز کی خارجہ پالیسی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے معاملے میں ملک واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سادارامیا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کے دور میں کرناٹک کی معیشت مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی فی کس آمدنی قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ جی ایس ٹی وصولی میں مہاراشٹر کے بعد کرناٹک کا دوسرا مقام ہے۔
انہوں نے بی جے پی پر اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی بے وفائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کئی علاقائی پارٹیاں بی جے پی کے رویے سے متاثر ہو چکی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے کئی قائدین کو دباؤ اور سیاسی حربوں کے ذریعے بی جے پی میں شامل کیا گیا۔
سادارامیا نے کرناٹک بی جے پی کی اندرونی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی شدید گروپ بندی کا شکار ہے اور قائدین ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں۔ سابق وزیرِ اعلیٰ یڈیورپا اور ان کے خاندان کے خلاف پارٹی کے اندر ہی کئی گروہ سرگرم ہیں، مگر قیادت ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بی جے پی کو پہلے اپنی داخلی مشکلات اور اختلافات کو سلجھانا چاہیے، پھر وہ کانگریس حکومت پر تنقید کرنے کے اہل ہوں گے۔