بنگلورو، 5 /نومبر (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیراعلیٰ کرناٹک سدارامیا نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا انتخابی نظام بدعنوانی اور جعلسازی کے دلدل میں پھنس چکا ہے، اور اس کی پول ایک بار پھر کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کھول دی ہے۔
سدارامیا نے اپنے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پوسٹ میں کہا کہ راہول گاندھی نے پہلے کرناٹک کے مہادیوپورہ اور الند اسمبلی حلقوں میں ووٹ چوری کو بے نقاب کیا تھا، اور اب انہوں نے ہریانہ اسمبلی انتخابات کے دوران منظم دھاندلی اور ووٹر لسٹ میں جعلسازی کے ٹھوس ثبوت عوام کے سامنے پیش کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن جس پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہی آج مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر جمہوریت کا گلا گھونٹنے میں شریک ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ ہریانہ میں بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کی انتہا کر دی۔ نہ صرف فرضی ووٹر لسٹ تیار کی گئی بلکہ برازیل کی ماڈل میتھیوز فریرو کی تصویر تک کو ووٹر لسٹ میں استعمال کیا گیا۔ سدارامیا کے مطابق، ’’یہ واقعہ صرف جعلسازی نہیں بلکہ ملک کی بدنامی کا باعث بھی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں تقریباً پانچ لاکھ فرضی ووٹر درج کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد ووٹ ایسی شناختوں پر ڈالے گئے جنہیں پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق، ’’مجموعی طور پر پچیس لاکھ سے زیادہ جعلی ووٹ ڈالے گئے — یعنی ہر آٹھویں ووٹ میں ایک ووٹ فرضی تھا۔‘‘
سدارامیا نے مزید کہا کہ تمام ایگزٹ پولز نے واضح طور پر پیش گوئی کی تھی کہ ہریانہ میں بی جے پی کو شکست ہوگی، لیکن نتائج کو الٹ کر بی جے پی کو اکثریت دلائی گئی۔ ’’راہول گاندھی نے آج ٹھوس شواہد کے ساتھ ثابت کر دیا ہے کہ انتخابی نظام کو ایک مخصوص جماعت کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
وزیراعلیٰ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی شدید تنقید کی۔ ان کے مطابق، کمشنر ہمیشہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اب وقت آگیا ہے کہ وہ ’’اپنے آقاؤں کی حفاظت‘‘ چھوڑ کر سچائی تسلیم کریں اور قانون کے مطابق جواب دہ بنیں۔