ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / امریکہ سے رابطوں کے لیے منصوبہ بندی جاری، ایرانی وزارت خارجہ کا اہم بیان

امریکہ سے رابطوں کے لیے منصوبہ بندی جاری، ایرانی وزارت خارجہ کا اہم بیان

Sat, 20 Jun 2026 12:14:11    S O News

تہران/واشنگٹن ، 20/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں ایرانی اور امریکی نمائندہ وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات ملتوی کر دی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ایک اور میٹنگ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق بقائی نے بتایا کہ مذاکرات کے اگلے دور کی بات چیت کے لیے ثالثوں کے ذریعے مشاورت جاری ہے اور شرائط طے ہونے کے بعد نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت مذاکرات کی بحالی کا انحصار معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد پر ہے، جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائی ختم کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ہٹانا، 60 دنوں کے لیے جہازوں کی آمد ورفت کے لیے آبنائے ہرمز محفوظ اور مفت کھولنا، امریکہ کی جانب سے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور مشتق اشیاء کی برآمدات کے لیے چھوٹ دینا اور ایران کے منجمد کئے گئے اثاثوں کو جاری کرنا شامل ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ جمعہ کی ملاقات کا مقصد اصل میں معاہدے پر دستخط کرنے اور حتمی معاہدے پر بات چیت کے انتظامات پر تبادلہ خیال کرنے کے تھی لیکن انہوں نے بتایا کہ یہ اس وقت غیر ضروری ہو گیا جب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کی صبح الیکٹرانک طور پر اس دستاویز پر دستخط کردیئے۔

انہوں نے کہا کہ ایم او یو کے تحت ایران اپنی موجودہ جوہری حیثیت کو برقرار رکھے گا اور آئی اے ای اے کی نگرانی کو بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسی سائٹس تک ہی محدود رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے پہلے جن مقامات پر جانے سے منع کیا گیا تھا، ان تک رسائی کا انحصار مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج پر ہوگا۔

ایران، امریکہ اور اسلام آباد نے پیر کی صبح کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد خطے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا۔ بتا دیں کہ اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر 28 فروری کو تہران سمیت ایران کے کئی شہروں پر یکطرفہ حملے کئے تھے۔ جس کے بعد ایران نے جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ خطے میں اسرائیلی اور امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اس سے  اسرائیل اور امریکہ کے بحری جہازوں کے آنے جانے پر روک لگ گئی۔


Share: