ہبلی، 20 / جون (ایس او نیوز) ہبلی کے دیہی پولیس اسٹیشن حدود میں ہندو تنظیم کے کارکنان کی طرف سے انجام دی گئی غیر اخلاقی پولیس گری کی تازہ واردات سے ضلع میں امن اور قانون کی موجودہ ابتر صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جس میں ایک ہندو لڑکی کے ساتھ موجود عیسائی لڑکے کو مسلم سمجھ کر نوجوان جوڑے کو ہندوتوا کارکنان کے ذریعے اغواء کرکے کئی گھنٹوں تک کمرے میں بند رکھنے اور بری طرح مار پیٹ کرنے کے ساتھ ویڈیو بنا کر رقم طلب کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ہندو تنظیم کے کارکنان کے حملے میں زخمی عیسائی نوجوان شروین (22 سال) کو ہبلی کے کمس اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں اس کا علاج چل رہا ہے ۔
عیسائی نوجوان شروین کی طرف سے پولیس کے پاس درج کروائی گئی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس کی دوست ایک ہندو لڑکی ہبلی کے مضافات میں واقع ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے لئے گئے تھے ۔ تب وہاں ہندو تنظیم سے وابستہ کارکنان کی گینگ وہاں پہنچی اور مسلم سمجھ کر اچانک اس پر حملہ کیا ۔ حالانکہ اس نے بار بار کہا کہ وہ مسلم نہیں بلکہ عیسائی ہے، مگر حملہ آوروں نے اس کی ایک نہیں سنی اور اس کی پیٹائی کرتے رہے ۔
شروین کی شکایت میں کہا گیا ہے کہ شرپسند حملہ آوروں نے اس کو اور اس کی ساتھی لڑکی کو اغواء کر لیا اور یہاں وہاں لے کر جاتے رہے پھر مسلسل چھ گھنٹے تک ایک کمرے میں بند کرکے بری طرح اس کی پیٹائی کرتے رہے ۔ اس کے علاوہ اپنے من چاہے انداز میں اس کی اور لڑکی کی ویڈیو گرافی اور رقم کرکے وہاں سے فرار ہوگئے ۔
اس واردات کا علم ہوتے ہی اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے دھارواڑ ضلع ایس پی گنجن آریہ نے کمس ہاسپٹل میں جا کر متاثرہ نوجوان کی مزاج پرسی کی اور اس واقعے ملوث ہندو تنظیم اور اس کے کارکنان کے بارے میں پوری تفصیل دریافت کی ۔
ہبلی دیہی پولیس اسٹیشن میں اس تعلق سے کیس درج کیا گیا ہے ۔ واردات میں ملوث ہندو تنظیم کے مفرور کارکنان کی تلاش جاری ہے ۔