میسورو ، 21/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سِدارامیا نے کہا ہے کہ ملک میں حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) نئی مردم شماری کے بعد ہی کی جانی چاہیے، موجودہ حالات میں اس کا نفاذ مناسب نہیں ہوگا۔ دو روزہ دورۂ میسورو کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ خواتین ریزرویشن کی حامی رہی ہے اور اس کی مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں 73ویں اور 74ویں ترامیم کے ذریعے مقامی اداروں میں خواتین کو ریزرویشن فراہم کرنا کانگریس کا ہی کارنامہ ہے، بلکہ 50 فیصد خواتین ریزرویشن بھی کانگریس حکومت کی ہی دین ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 2023 میں خواتین ریزرویشن بل منظور ہوچکا تھا تو اس پر فوری عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن منصوبوں (گارنٹی اسکیمز) کی مخالفت پہلے کی جا رہی تھی، اب وہی اقدامات دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے منشور میں شامل کر رہی ہیں، جو کانگریس کی پالیسیوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ان کا طرزِ عمل امتیازی ہے اور وہ سماجی انصاف کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید سوال کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں خواتین ریزرویشن کو نافذ کیوں نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حلقہ بندی سے جنوبی ہندوستانی ریاستوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ ان ریاستوں نے آبادی پر بہتر کنٹرول کیا ہے، جبکہ شمالی ریاستوں میں آبادی میں اضافہ زیادہ ہے۔ اس لیے نئی مردم شماری کے بعد ہی منصفانہ بنیادوں پر نشستوں کی تقسیم ہونی چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بعض معاملات میں مرکز سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایسے اہم بلز کو مناسب اکثریت کے بغیر پیش کرنا درست حکمت عملی نہیں ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے انتخابات میں مختلف ریاستوں میں کانگریس پارٹی بہتر کارکردگی دکھائے گی۔