نئی دہلی 7؍مئی (ایس او نیوز)کرناٹکا کی کانگریسی حکومت نے ایک پی آئی ایل کے پس منظر میں جاری کردہ سپریم کورٹ کی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے گؤ رکھشا سے متعلقہ ریاستی قانون میں گؤ رکھشکوں کو جو تحفظ حاصل ہے ، اس کی حمایت میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔
خیال رہے کہ کرناٹکا کے علاوہ گجرات، اتر پریش، مہاراشٹرا، جھارکھنڈاور راجستھان کی حکومتوں نے گؤکشی مخالف جو قوانین بنائے ہیں ، ان میں گائے کی حفاظت کے لئے فعال کردار ادا کرنے والے رضاکاروں (گؤ رکھشکوں) کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں گؤرکھشا کے نام پر ہندتووادی گروپوں کی طرف سے جو دھاندلی اور ستم ڈھائے جارہے ہیں ، اس کے پیش نظر ایک عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل ) سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان "گؤ رکھشکوں" کو جو قانونی تحفظ ہے اسے ختم کردیا جائے اور ایسے گروہوں پر پابندی عائد کردی جائے۔ اسی سلسلے میں سپریم کورٹ کی جسٹس دیپک مشرا، اے ایم کھانویلکراور ایم ایم شانتانو گودھر کی بینچ نے مذکورہ بالا ریاستوں اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا کہ کیوں نہ ان گؤ رکھشکو ں کے گروہوں پر پابندی عائد کی جائے۔
سپریم کورٹ کی نوٹس کے جواب میں سوائے ریاست کرناٹکا کے دیگر ریاستوں نے کوئی بیان داخل نہیں کیا ۔انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی اگر رپورٹ پر بھروسہ کریں تو کرناٹکا حکومت نے اپنے حلف نامے میں اس قانو ن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ Karnataka Prevention of Cow Slaughter and Cattle Preservation Act میں گؤ رکھشا کے لئے کام کرنے والے گروہوں کو جو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے وہ "اچھے گؤرکھشک گروہوں"کے لئے ہے جو نیک نیتی سے کام کرتے ہیں، اور کسی قسم کے تشدد اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث نہیں ہوتے۔اور جو فرقہ وارانہ بدامنی پھیلانے کا سبب نہیں بنتے۔اس کے علاوہ یہ تحفظ گؤ رکھشا کے دعویٰ کرنے والے ہر گروپ کو حاصل نہیں ہے ، بلکہ انہی گروپوں کو حاصل ہے جو کسی مجاز اتھارٹی کی جانب سے تصدیق شدہ ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے ملک میں بی جے پی پر الزام لگایا جارہا ہے کہ گؤرکھشا کے نام ہر تشدد پھیلانے والے گروہوں کواس نے پوری طرح آزاد چھوڑ رکھا ہے ، اور ملک کے کونے کونے میں ان گروہوں نے ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، کرناٹکا کی کانگریسی حکومت کا یہ موقف بڑی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔حکومت کے حلف نامے میں واضح کیا گیاہے کہ مذکورہ بالا ایکٹ کی دفعہ 15کے تحت گؤ رکھشا میں ملوث کسی مجاز افسر یا فرد کوجو تحفظ حاصل ہے ، وہ صرف نیک نیتی سے کیے جانے والے اقدام کے لئے ہے۔جس افسر یا فرد کو اس ایکٹ کے تحت اختیار حاصل نہیں ہے، اورجو بھی غیر قانونی اور مجرمانہ اقدام کا مرتکب ہوتا ہے ، اس کے لئے کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس لئے حکومت نے سپریم کورٹ میں گؤ رکھشک گروپوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے والی پی آئی ایل کو خارج کرنے کی مانگ کی ہے۔